چارلی ولسن کی جنگ جاری ہے

1
1905
Charlie Wilson War

تحریر: محمد لقمان
دسمبر 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے بعد اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے پاکستان کو جب پرائی جنگ کا حصہ بنایا تو افغانستان میں مجاہدین پیدا کرنے کے لئے امریکہ کی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس چارلی ولسن نے ایک سرخیل کا کردار ادا کیا۔ کمیونسٹ روس کے خلاف اسلام کے نعرے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سہرا بھی اسی شخص کے سر ہے۔ جس نے اپنی ایک گرل فرینڈ یوان ھیرنگ کی سحر کاریوں کے ذریعے جنرل ضیاءالحق جیسے بظاہر متقی اور پرہیزگار انسان کو امریکی کھیل کا ایک اہم کردار بنایا۔ سٹنگر میزائل ہوں یا کہ افغان جنگ جووں میں روسیوں کے خلاف جہادی جذبات پیدا کرنے کا عمل، چارلی ولسن اور اس کی ٹیم نے وہی کردار ادا کیا جو کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران لارنس آف عریبیا نے عربوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بھڑکانے میں کیا تھا۔
چارلی ولسن کے ان کارناموں کو مصنف جارج کریلی نے اپنے غیر افسانوی ناول چارلی ولسن وار میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اور اس ناول کو 2007 میں ایک فلم کی شکل دی گئی تھی۔ جس میں بھارتی اداکار اوم پوری نے جنرل ضیاء الحق کا کردار ادا کیا تھا۔ کئی سالوں تک اسلام کے نام پر پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا۔ سوویت یونین 1989 تک افغانستان سے نکل گیا اور 1991 میں سوویت یونین کے حصے بخرے ہوگئے اور اس کے بطن سے 24 یورپی اور ایشیائی آزاد ریاستوں نے جنم لیا۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے اس کامیابی پر جشن منایا اور افغانستان کو اس کے حال پر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
پہلے سوویت یونین اور پھر امریکہ افغانستان سے نکل گئے اور ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس کو طالبان نے پر کیا۔ جب سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران افغانوں کو تربیت دی جا رہی تھی تو پاکستانی بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ یوں عسکری تربیت کے حامل افراد کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوگئی جن کے پاس افغان جنگ ختم ہونے کے بعد کرنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ انہی لوگوں نے پاکستان میں عسکری تنظیمیں اور گروپ تشکیل دے دیے۔
یوں پاکستان میں عسکریت پسندی کا ایسا طوفان آیا جس کے اثرات ابھی تک بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق 1988 میں ایک فضائی حادثے میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ چارلی ولسن بھی سال 2010 میں آنجہانی ہوگئے۔ مگر ان دونوں کا ورثہ انتہاپسندی کی صورت میں موجود ہے۔ مگر اب یہ جنگ پاکستان کے کوچے کوچے میں لڑی جارہی ہے اور اس کا ہدف فوجی اور سویلین دونوں ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ چارلی ولسن اور ضیاء الحق کے ورثے سے جان چھڑائیں اور ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کے لئے قوم میں اتحاد پیدا کریں۔

1 COMMENT

  1. باتیں تو صحیح ہیں مگر بوتل میں جن کو دوبارہ کیسے بند کیا جاۓ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئ آئینی ترامیم کو تو بیک جنبش قلم خارج کر دیا گیا مگر ضیا کی ترامیم کو کوئ ہاتھ نہیں لگا سکتا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here