ٹيکس غريب کا ، فائدہ امير کا

0
1501
Tax collection in Pakistan

تحرير : محمد لقمان
پاکستان ميں امراء اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ٹيکسوں ميں ہر سال ايسے استثناء ديے جاتے ہيں۔ جن سے ملکي خزانے کو 600 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان ميں ہر طريقے سے جمع ہونے والے ٹيکس 23 سے 24 کھرب تک ہوتے ہيں۔ جن ميں سے 68 في صد بالواسطہ طريقے سے اکٹھے کيے جاتے ہيں۔گويا کہ غريب سے غريب شخص بھي ماچس سميت سينکڑوں اشيائے صرف پر 16 سے 17 في صد تک ٹيکس ديتا ہے۔ ان حالات ميں جب کہ 20 کروڑ کي آبادي ميں سے انکم ٹيکس جمع کروانے والے 10 لاکھ افراد سے بھي کم ہوں اور ان ميں بھي زيادہ تر تنخواہ دار طبقے کے لوگ ہوں تو خزانے کو بھرنے کے لئے تو غريب کے پيٹ کو ہي کاٹنا پڑے گا۔ اس وقت 5 کروڑ 20 لاکھ ايسے افراد پاکستان ميں موجود ہيں جن کي آمدن تو ٹيکس کے قابل ہے مگر وہ کسي نہ کسي طريقے سے وہ ٹيکس کے نيٹ ميں آنے سے بچ جاتے ہيں۔ اس وقت ملک ميں 4 کروڑ 30 لاکھ افراد کو دو وقت کا کھانا دستياب نہيں کيونکہ وہ خط افلاس سے نيچے زنگي گذار رہے ہيں۔ مزيد 4 کروڑ 50 لاکھ افراد بھي بڑي مشکل سے گذار کر رہے ہيں۔ غريب عوام کي طرف سے تمام تر بالواسطہ ٹيکس کي ادائگي کے باوجود ان کو صحت اور تعليم کي سہولتيں پوري طرح ميسر نہيں ہيں۔ پاکستان ميں صحت پر سالانہ في کس خرچ صرف 4 ڈالرز ہے جبکہ اقوام متحدہ 45 ڈالرز کي سفارش کرتا ہے۔۔ يہي وجہ ہے پينے کے صاف پاني تک صرف 13 في صد آبادي کو رسائي ہے۔ امراء تو بوتل والا مہنگا پاني پي ليتے ہيں۔ ليکن دور دراز ميں رہنے والے لوگ تو ٹوبوں اور جوہڑوں کا گدلا پاني پينے پر مجبور ہيں۔گويا کہ بجٹ ميں اکثر سہولتيں اور استثنا تو کل ٹيکس کا ايک تہائي دينے والوں کو مل جاتا ہے جبکہ دوتہائي ٹيکس دينے والي عوام جو کہ جي ايس ٹي سميت تمام بالواسطہ ٹيکس ديتي ہے۔ان کے لئے صرف وعدے اور نعرے ہي رہ جاتے ہيں۔ يہ معاملہ صرف پاکستان تک ہي محدود نہيں۔ دنيا کے اکثر ترقي پذير اور پسماندہ ممالک ميں ايسا ہي ہوتا ہے۔ جہاں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں ميں ہي ہوتا ہے۔ فوجي حکمران ايوب خان کے دور ميں پاکستان کے بائيس خاندانوں کے بارے ميں مشہور تھا کہ ملک کي اکثر دولت کے وہ مالک ہيں۔ مگر اب يہ تعداد سينکڑوں تک پہنچ گئي ہے۔۔متوسط طبقہ بھي دو تين کروڑ سے زائد نہيں۔ باقي جتني آبادي ہے وہ بڑي مشکل سے ہي گذارہ کررہي ہے۔ ہر دفعہ انتخابات ميں سبز باغ دکھائے جاتے ہيں۔ گلياں اور سڑکيں پکي کرکے ٹرخا ديا جاتا ہے۔۔مگر کبھي يہ نہيں سوچا گيا کہ غذائي کمي کي شکار قوم کو سستي اور متوازن غذا کي ضرورت ہے۔ جس کو پورا کرنے کے لئے کبھي سنجيدہ کوشش نہيں ہوئي۔ سرکاري تعليمي اداروں ميں اتني استعداد نہين کہ وہ غريب طبقے کے بچوں کو معياري تعليم دے سکيں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here