سچ یہ بھی ہے۔۔۔۔خود انصافی کا جن

0
988
Lynching incidents in Pakistan

تحرير: محمد لقمان
پہلے تو صرف بالی وڈ کی فلموں میں ہی دیوا کی عدالت لگتی تھی جس میں ملک کے نظام سے نا امید ہیرو خود ہی وکیل ، منصف اور پوليس بن کر گناہ گاروں کو سزا دیتا تھا۔ ایسی عدالتیں شاید پڑوسی ملک بھارت میں عام زندگی میں لگتی ہیں یا نہیں۔مگر پاکستان میں ٹی وی سکرینوں پر ایسے مناظر روزانہ نظر آتے ہیں۔ عوام کسی کر بھی شک کرکے اس کی مارپیٹ کرتے ہیں۔ پولیس اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے صرف تماشائی ہی بنے رہتے ہیں۔ جب عوام کے قابو میں آیا ہوا شخص پوری طرح لہولہان ہو جاتا ہے۔ تو پولیس گرفتار کر لیتی ہے۔ گویا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایسے واقعات کے بڑھاوے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کے ہاتھوں لگا شخص تو بے گناہ ہے۔ لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا بے گناہ پر تشدد کرنے والوں کو سزا ملی ہو۔اب چوروں اور ديگر جرائم کرنے والوں کا عوام منہ کالا کرکے گدھے پر نہيں بٹھاتي۔ اب تو پہلے ان کي ہڈياں توڑي جاتي ہيں۔ اگر جان بچ جائے تو قانون کے حوالے کيا جاتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں ميں بچوں کے اغوا کے واقعات کے بعد تو مشکوک اور مبينہ اغوا کاروں کو پيٹنا ايک روايت بنتي جا رہي ہے۔۔صرف لاہور ميں پچھلے ایک سال میں سینکڑوں افراد کو اس شک ميں پيٹا جاچکا ہے کہ وہ اغوا کي نيت سے کسي آبادي ميں داخل ہوئے تھے۔ عوام ميں عدم تحفظ کا احساس اتنا بڑھ چکا ہے کہ پوليو کے قطرے پلانے کے لئے اپنے شير خوار بچے کو لے کر جانے والے کو بھي اغوا کاري کے شک ميں دھلائي کردي گئي۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں نوجوان مشال خان کو طلبہ اور یونیورسٹی ملازموں نے مختلف الزامات لگا کر قتل کردیا۔ حال ہی میں گوجرانوالہ میں ایک وین ڈرائیور کو اس وقت پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جب وہ اپنی موٹرسائکل کو اسٹارٹ کررہا تھا۔ لوگوں نے اس کو موٹر سائکل چور سمجھا اور اتنی دھنائی کی کہ موت واقع ہوگئی۔ پچھلے دس سالوں ميں کئي ايسے واقعات ہوئے ہيں جن ميں عوام نے مبينہ ملزموں کو پيٹ پيٹ کر مار ڈالا۔ ايک بڑا ہي گناونا واقعہ 15 اگست 2010 کو سيالکوٹ ميں پيش آيا جس کے دوران ڈاکو قرار دے کر دو سگے بھائيوں مغيث بٹ اور منيب بٹ کو عوام نے پہلے خوب پيٹا، پھر پھانسي دي اور بعد ميں ان کي لاشوں کي بے حرمتي بھي کي۔ 4 نومبر 2014 کو قصور کے نواحي علاقے کوٹ رادھا کشن ميں ذاتي جھگڑے کو مذہبي رنگ دے کر ايک مسيحي جوڑے شہزاد اور شمع کو اينٹوں کے بھٹے ميں پھينک کر زندہ جلاديا گيا۔ 15 مارچ 2015 کو لاہور کے علاقے يوحنا آباد ميں چرچ پر خود کش حملے کے واقعے کے بعد مشتعل ھجوم نے دو معصوم نوجوانوں محمد نعيم اور بابر نعمان کو مار پيٹ کر قتل کيا اور بعد ميں زندہ جلا ديا۔ کراچي ، فيصل آباد، گوجرانوالہ اور ديگر بڑے شہروں ميں بھي ايسے واقعات تواتر سے ہورہے ہيں۔ آخر عوام اپني عدالت ہي کيوں لگاتے ہيں۔ ماہرين نفسيات کے مطابق اغوا اور ديگر جرائم کے بعد پوليس کي طرف سے کاروائي نہ ہونے سے عدم تحفظ کا احساس سے ايسے واقعات جنم ليتے ہيں۔ رہي سہي کسر ہمارے عدالتي نظام ميں سقم کي وجہ سے پيدا ہوئي ہے۔ ان واقعات کو”خود انصافی” کا نام دیا جائے یا پھر ”عوامی انصاف” کا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ریاستی اداروں سے مایوس اور انصاف سے محروم افراد میں مائورائے قانون”انصاف” کا نظریہ تقویت پکڑ رہا ہے۔ جب ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوجائیں تو ریاست کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اس طرح کے واقعات معمول بن جاتے ہیں۔وقت آگيا ہے کہ اربابِ اقتدار اس حقیقت کا ادراک کريں اور عدل اور فوری و تیز انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرکےعوام کي نظروں ميں اداروں کا اعتماد بحال کريں۔ اگر حکومت نے انصاف کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے تو پھر وہ دن زیادہ دور نہیں جب خود انصافی ہی پاکستان کا قانون قرار پائے گی اور ہر فرد مجرموں کو خود سزا دینا چاہے گا۔ خود انصافي يا لنچنگ انساني تاريخ ميں کوئي نئي بات نہيں۔ ماضي قريب ميں امريکہ سميت مغربي دنيا ميں بھي خود انصافي کا رجحان عام رہا ہے۔ 19 ويں صدي اور 20 ويں صدي کے پہلي تين دہائيوں ميں امريکہ جيسے ترقي يافتہ ملک ميں بھي چوروں کو درخت کي ہري شاخ کے ساتھ باندھ ديا جاتا تھا۔ خشک ہو کر شاخ مجرم کے جسم ميں دھنس جاتي تھي اور وہ مر جاتا تھا۔ ليکن قانون سازي اور انصاف کے نظام کو مضبوط کرنے سے يہ واقعات ختم ہوگئے اور اب مغربي دنيا ميں ايسا واقعہ عرصہ دراز سے وقوع پذير نہيں ہوا۔ پاکستان ميں قانون کي حکمراني کے بعد خودانصافي کے جن کو بوتل ميں بند کيا جاسکتا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی گائے کے تحفظ کے نام پر لوگوں کو قتل کرنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک نوجوان لڑکے کو دہلی میں اس بہانے قتل کیا گیا کہ شاید اس نے بڑا گوشت کھایا ہوا تھا۔ اسی طرح واقعات نرندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بہت زیادہ بڑھ گیے ہیں۔ ریاست کے قانون کی رٹ قائم کرنے کے بعد خود انصافی کے جن کو بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو فوری سزا مل جائے تو کوئی بھی آئندہ کسی کی ناحق جان نہیں لے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here