خار زار صحافت۔۔۔قسط باسٹھ

0
114

شادی اور صحافت
تحریر: محمد لقمان
فروری انیس سو پچانوے میں طے ہوگیا کہ میری شادی آٹھ اپریل کو ہوگی۔  والد صاحب نے مجھے ہدایت کی کہ اب پندرہ دن کی بجائے ہر ہفتے فیصل آباد آوں تاکہ شادی کے لئے خریداری ہوسکے۔ ماں کی وفات کو تین چار ماہ ہوئے تھے۔ مگر والد کا اصرار تھا کہ پتہ نہیں ان کی زندگی کتنی باقی ہے۔ اس لیے یہ شادی جلد از جلد ہو جانی چاہیے۔ مجھ سے بڑے بھائی جو کہ ان دنوں آئی ڈی ہسپتال فیصل آباد کے قائم مقام ایم ایس تھے۔ ان کے ساتھ مل کر ساری خریداری کی۔ میری ہونے والی دلہن کے لئے خریداری بھابھیوں اور بہنوں نے کی۔ پھر آٹھ اپریل کا دن آگیا۔ فیصل آباد کے نواح میں بارات گئی اور میں اپنی دلہن کو بیاہ لایا۔ شادی کے وقت مجھے میری ماں کی بہت یاد آئی۔ بارات میں میرے قائداعظم یونیورسٹی کے کلاس فیلو ریاض الحسن نے شرکت کی۔ کئی کلاس فیلوز اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ آسکے۔ البتہ ولیمے کی دعوت میں اے پی پی لاہور اور فیصل آباد سے میرے کئی کولیگز آئے ۔ خصوصاً ڈاکٹر وقار چوہدری کی شرکت تو میرے لیے بہت اہم تھی۔ کئی دوستوں نے کہا کہ شادی میں پی پی پی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وزرا کو بلا لیا جائے تو ٹور ٹپہ ہو جائے گا۔ مگر میں نے انکار کیا۔ مجھے پتہ تھا کہ شادی کی تقریب میں وی آئی پی مہمانوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے عزیز و اقارب کو بھلانا پڑے گا جو میں نہیں کرسکتا تھا۔ بہر حال اسلام آباد میں بیگم کے ساتھ ہنی مون منانے کے بعد واپس آیا تو دفتر جانے کے دن آگئے۔ میں نے تو بیوی کو بتا دیا تھا کہ اے پی پی کی شکل میں اس کی سوتن موجود ہے۔ تو وہ میری بات سمجھ نہ پائی۔ مگر جب میں دوبارہ اپنی ملازمت میں واپس گیا اور دن رات مصروف ہوگیا تو اسے میری بات پر یقین آگیا۔ دوسری بات تنخواہ کی تھی۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ میں سرکاری خبر رساں ایجنسی سے صرف دس ہزار روپے ماہانہ کے قریب کماتا ہوں۔ ایک ر وز سوال ہوا کہ مشکل وقت کے لئے بینک میں کچھ موجود ہے تو میں نے بتایا کہ کچھ روز بعد اکاونٹ میں تنخواہ آ جائے گی۔ ایک کاروبار ی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے لئے مشکل زندگی کا آغاز ہوچکا تھا۔ میں ہر ہفتے لاہور سے فیصل آباد آتا ۔ چھٹی کے دن کے بعد دوبارہ لاہور پہنچ کر پرانی انارکلی والے گھر میں پورا ہفتہ گذارتا۔ صبح سویرے چائنہ چوک میں دفتر جاتا اور شام کو آکر اپنے کمرے میں آکر سو جاتا۔ پانچ چھ ہزار روپے تو سفر ، رہائش اور کھانے پینے میں خرچ ہوجاتے تھے۔ ایک دن والد صاحب نے کہا کہ اپنی بیگم کو لاہور کو کیوں نہیں لے جاتے تو اس کا بھی دل بہل جائے گا۔ شادی کے تقریبا ً چھ ماہ کے بعد میں نے ساندہ روڈ پر صداقت پارک میں گھر لیا اور اس میں شفٹ ہوگئے۔ مکان کے مالک اظہر حسین نقوی ہیپی ہائی سکول نیشنل ٹاون کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ بہت نفیس آدمی تھے۔ ایک احاطے میں تین گھر تھے۔ ایک میں وہ رہتے، دوسرے میں میری رہائش تھی اور تیسرے گھر میں ان کے پٹواری سالے رہتے تھے۔ میں نے ایک پٹواری کی پرتعیش پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔ قیمتی کار اور پرسکون زندگی۔ ایک دن میں اور میری بیگم مکان کی چھت پر گئے تو پچھلی طرف کے مکان پر نظر پڑی تو وہاں تین چار قبریں نظر آئیں۔ بیگم بہت گھبرا گئیں۔ اگلے چھ ماہ تو جو ہم نے اس گھر میں گذارے تو رات کو بہت خوف آتا کہ کہیں کوئی روح ہی دیوار پار کرکے نہ آجائے۔ شادی کے بعد دفتر والوں کو پتہ چل گیا تھا کہ اب رپورٹر دن رات دستیاب نہیں ہے۔ مگر میں اس کے باوجود بھی صبح نو بجے جا کر رات آٹھ نو بجے ہی واپس آتا تھا۔ بیگم کے لئے یہ زندگی بہت مشکل تھی۔ ہر وقت وہ حالات میں بہتری کی دعائیں کرتی رہتی۔ مئی انیس سو چھیانوے کے وسط میں مجھے اسلام آباد سے اے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر چوہدری رشید احمد کی کال آئی کہ میرا تبادلہ فیصل آباد کردیا گیا ہے۔ میں بڑا پریشان ہوا۔ مگر بیگم نے اصرار کیا کہ اس پیشکش کو قبول کرلیا جائے۔ وہ بہت خوش تھی کہ خدا نے اس کی دعائیں قبول کرلی تھیں۔ اب وہ بڑی آسانی سے اپنے سسرال ا ور میکے والوں کے ساتھ وقت گذار سکتی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here