خارزار صحافت۔۔۔۔قسط پندرہ

0
1020

لاہور میوزیم : ثقافت شناسی کا بہترین ذریعہ

تحریر: محمد لقمان

بلدیاتی اداروں میں جانے کے بعد اگلا مرحلہ ایک بڑی غیر معروف بیٹ  میں ذرائع ڈھونڈٖنے کا تھا۔ ایک صبح مال روڈ پر واقعہ انیسویں صدی میں قائم ہونے والے لاہور میوزیم پہنچا۔ فروری کے  آخری ہفتے میں موسم کافی گرم ہوچکا تھا۔ میوزیم کے برآمدے میں ہی پی آر او خواجہ خورشید انور کے کمرے کا دروازہ کھلتا تھا۔ یقیناً یہ موسیقار خورشید انور نہیں تھے۔ کمرے میں داخل ہوکر اپنا تعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے۔ مجھے اپنے ساتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر سیف الرحمان ڈار کے پاس لے گئے۔ جب بتایا کہ اب اے پی پی کی طرف سے عجائب گھر میں کور کیا کروں گا ۔ تو انہوں نے خواجہ خور شید انور سے کہا کہ میں جب بھی میوزیم آوں تو ہر مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں۔ لاہور میوزیم سے ایک ایسا تعلق بنا کہ اے پی پی کی سترہ سالہ ملازمت کے دوران ہر ہفتے دو ہفتے کے بعد جانے کا موقع ملتا رہا۔ میوزیم کی ایسی کوئی گیلری نہیں ہوگی۔ جس کے بارے میں میں نے خبر یا فیچر فائل نہ کیا ہو۔ اس زمانےمیں ڈان کے رپورٹر مرحوم محمود زمان آثار قدیمہ پر بہتر لکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ میوزیم کے بعد مال روڈ پر ہی واقع لاہور چڑیا گھر کا رخ کیا تو وہاں ڈائریکٹر کرنل ظفر احمد سے ملاقات ہوگئی۔ شرعی داڑھی کے مالک کرنل ظفر احمد بڑے کم گو تھے۔ وہیں ڈاکٹر ارشد ہارون طوسی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر طوسی کی پھوبھی ڈاکٹر عابدہ طوسی 1965 کی جنگ کے دوران وزیرآباد کے قریب ٹرین پر بھارتی بمباری کی وجہ سے شہید ہوگئ تھیں۔ ڈاکٹر طوسی کرنل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور زو کے ڈائریکٹر رہے اور آج کل متحدہ عرب امارات میں العین زو میں ایک اچھے عہدے پر تعینات ہیں۔ قصہ مختصر، لاہور کے چڑیا گھر میں تقریباً پندرہ سال بعد آنے کا موقع ملا تھا۔ زو کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اسی دوران وہاں آنے والے کئی رپورٹرز سے بھی ملاقات ہوگئی۔ ان میں جنگ کے رمان احسان اور پاکستان کے معین اظہر تھے۔ رمان احسان مرحوم  نے جیو اور ڈان ٹی وی میں بھی کام کیا۔ اپنی وفات کے وقت وہ دنیا ٹی وی کے بیورو چیف تھے۔ جبکہ معین اظہر کو لاہور پریس کلب کا صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ لاہور کارپوریشن، ایل ڈی اے ، میوزیم اور چڑیا گھر بہت چھوٹی بیٹس تھیں۔ مگر ان پر رپورٹنگ اور فیچر رائٹنگ سے لکھنے کی عادت بن گئی۔ جس کا فائدہ مجھے آج بھی مل رہا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ لاہور کارپوریشن کے بعد بلدیات کے محکمے کی پوری بیٹ مل گئی۔  چڑیا گھر کے بعد وائلڈ لائف کا پورا محکمہ اور میوزیم کی وجہ سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے آثار قدیمہ کے محکمے بھی کئی سال تک کور کرنے کا موقع ملا۔ گویا کہ چھوٹی بیٹس پر پوری استقامت اور محنت سے کام کرنے کا صلہ مل ہی جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here