خار زار صحافت۔۔۔۔قسط تینتیس

0
253

 ایران  کا سفر (1)

1993 کے عام انتخابات کے شیڈیول کا اعلان ہو چکا تھا۔۔ عدالتوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے عمل اور الیکشن کمیشن کی سرگرمیوں کی کوریج کی ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی تھی۔ چونکہ میری صحافتی زندگی کے پہلے عام انتخابات تھے۔ اس لیے میں بہت پرجوش تھا۔  جہاں کسی مشکل کا سامنا ہوتا تو میرے سینیر ساتھی  محمود احمد خان (میک لودھی) ہر وقت مدد کے لئے تیار ہوتے۔ مگر اسی دوران مجھے اے پی پی ہیڈکوارٹرز سے ہدایت ملی کہ فوری طور پر پاسپورٹ سمیت دیگر دستاویزات تیار کروائیں کیوںکہ اگلے دو ہفتوں میں مجھے تہران روانہ ہو کر غیر وابستہ تنظیم کے تحت ڈویلپمنٹ جرنلزم کی دو ہفتے کی ورکشاپ میں شریک ہونا تھا۔ نان الائنڈ نیوز ایجنسیز پول (ناناپ) کا ہیڈ کوارٹر  ان دنوں تہران میں ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے ہیڈ آفس میں تھا۔ خیر اے پی پی کے دوستوں کی مدد سے پاسپورٹ آفس سے جلد از جلد پاسپورٹ بنوایا ۔  یہ میرا پہلا پاسپورٹ تھا ۔ جس کے ذریعے میں  اپنے پہلے غیر ملکی دورہ پر روانہ ہو رہا تھا ۔ ایران کے ویزے کے لئے اے پی پی ہیڈکوارٹرز کی طرف سے درخواست دی گئی تھی۔ اور کراچی میں موجود ٹور آپریٹر نے ہی ٹکٹ اور پاسپورٹ پر ویزہ لگوا کر بجھوانا تھا۔  ستمبر کا پہلا ہفتہ تیاریوں میں گذر گیا۔ اس دوران فیصل آباد میں اپنے والدین سے بھی مل آیا تھا۔ دس ستمبر کو ورکشاپ کے شرکا کا تہران پہنچنا ضروری تھا۔ مگر ابھی تک ایرانی سفارتخانے سے ویزہ نہیں آیا تھا۔ خدا خدا کرکے نوستمبر کی شام کو ویزہ اور ٹکٹ وصول ہوئے تو سانس میں سانس آیا۔ مگر ایک نیا مسئلہ پیدا ہوچکا تھا۔ کہ کراچی سے براہ راست تہران جانے والی فلائٹ ابھی تین چار روز کے بعد تھی۔ اس لیے ٹور آپریٹر نے دبئی کے راستے ایرانی شہرشیراز جانے کا انتظام کیا تھا۔ دس ستمبر کی صبح کو کراچی پہنچا ۔ اے پی پی کراچی کے دفتر میں اسلم پرویز مل گئے۔ انہوں نے مجھے کراچی کے نو تعمیر شدہ جناح ایرپورٹ پہنچایا ۔ جہاں سے مجھے آگے دوبئی روانہ ہونا تھا۔ کراچی ایرپورٹ ان دنوں پاکستان کا سب سے جدید ایرپورٹ تھا۔ اس لیے لاہور ایرپورٹ سے کراچی ایرپورٹ پہنچ کر بڑا فرق محسوس ہوا۔ صبح گیارہ بجے ایمیریٹس کی فلائٹ دبئی کے لئے روانہ ہوئی۔ یوں میرے پہلے غیر ملکی سفر کا آغاز ہوچکا تھا۔ ایمیریٹس کا سفر بھی ایک یاد گار سفر تھا۔  پہلی مرتبہ عربی ڈشز کھانے کے لئے ملیں۔ سیٹ کے سامنے نصب وڈیو سکرین پر بالی ووڈ مووی دیکھنے کا موقع ملا۔ ابھی تک یاد ہے جو فلم میں نے جہاز میں دیکھی وہ سنجے دت کی شہرہ آفاق مووی کھل نائک تھی۔ اس کا مشہور گانا نائک نہیں کھل نائک ہوں میں، ابھی تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ تقریباً بارہ سو کلومیٹر کا فضائی سفر دو گھنٹے میں طے ہوا۔ جہاز جب دوبئی کے ایرپورٹ پر اترنے لگا تو ایسے لگا کہ وہ سمندر میں جارہا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ جب جہاز سے نکل کر دبئی ایرپورٹ میں داخل ہوئے تو ایک نئی دنیا منتظر تھی۔


Warning: A non-numeric value encountered in /home/indegzmi/public_html/muhammadluqman.com/wp-content/themes/Newspaper/includes/wp_booster/td_block.php on line 1008

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here