خار زارصحافت۔۔قسط بتیس

0
239

جب سیکرٹری پنجاب اسمبلی اغوا ہوا

تحریر: محمد لقمان

مئی 1993 میں سپریم کورٹ کے حکم سے نواز شریف کی پہلی حکومت بحال ہوئی تو پنجاب میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی۔۔۔اس بار جنگ کا میدان پنجاب اسمبلی تھی ۔میاں منظور وٹو کی حکومت ختم کرنے کے لئے مسلم لیگ کی کوششوں کی کامیابی  کے لئے اسمبلی کا سیشن میں ہونا ضروری تھا۔ جس کے لئے مسلم لیگ ن کے ارکان چاہتے تھے کہ کسی طور سپیکر یا گورنر اسمبلی کا اجلاس بلا لیں۔ ہاتھیوں کے درمیان اس ٹکراو میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی حبیب اللہ گورائیہ خواہ مخواہ ہی اغوا ہوگئے۔ ہوا کچھ  یوں  کہ  اے پی پی لاہور  کےسینیر رپورٹر  وقاراللہ  چوہدری  نے  ماس  کمیونیکیشن میں پی ایچ ڈی  کرنے  پر  مال روڈ  کے  ایک ہوٹل  میں ایک تقریب  کا اہتمام کیا۔ جس میں پنجاب حکومت  کے سرکردہ  افراد  کے علاوہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی حبیب اللہ گورائِیہ بھی  شریک ہوئَے۔ شام  کے وقت  ہونے والی پارٹی میں  ڈاکٹر  وقار چوہدری  نے  دفتر سے مجھ سمیت  دو چار  افراد  کو ہی مدعو کیا ہوا تھا۔ کھانے  پینے کے دوران  گپ  چھپ چل  رہی تھی کہ  چار  ایم پی اے  ہال  میں  داخل ہوئے جنہوں  نے  چوہدری  حبیب اللہ  سے کچھ  بات چیت کی  اور ان کو باہر  لے گئے۔  اس وقت  کسی  کو اندازہ نہیں ہوا کہ  کیا ہوا ہے۔ مگر  بعد  میں پتا چلا کہ گجرات  سے تعلق رکھنے والے میاں عمران مسعود اور دیگر ارکان اسمبلی  نے سیکرٹری کو نئے اجلاس کی ریکویزیشن دینے  کی کوشش  کی جب انہوں  نے وصولی  سے  انکار کیا تووہ ان کونا معلوم جگہ پر لے گئے۔ میاں منظوراحمد  وٹو کی حکومت نے واقعے  کو بہت اچھالا اور  اسے لیگیوں  کی غنڈہ گردی  قرار دیا۔ ڈاکٹر وقار سے اس  بارے میں بہت  پوچھ  گچھ  ہوئی۔ ایم پی ایز  کی حراست سے طرف  رہا  ہونے کے بعدبھی  حبیب اللہ  گورائیہ  اسمبلی  آنے کی بجائے ادھر ادھر  ہی  رہے۔ اور  ڈپٹی سیکٹری  سعید  احمد ان کی ذمہ داریاں  ادا کرتے رہے۔ مسلم لیگ  ن  اور مسلم  لیگ جونیجو کے درمیان یہ  کشمکش اس وقت تک جاری رہی جب تک  کہ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم  نواز شریف نے عہدوں سے استعفی نہیں دیا  ۔ دونوں کے استعفی کے بعد  پنجاب کی سیاست  میں آنے والا  طلاطم خود بخود ختم ہوگیا  تھا۔ اس کے  بعد  عام  انتخابات  کےشیڈول  کا  اعلان ہو گیا۔ یہ  میرے بطور  صحافی  پہلے عام انتخابات  تھے۔ اس لیے میں  انہیں  کور  کرنے کے لئے بہت  پر جوش تھا۔ انتخابی سرگرمیاں  تو  مجھے مختلف جماعتوں کی رپورٹ کرنی ہوتی تھیں۔ مگر مجھے  متحارت مذہبی جماعتوں۔۔انجمن سپاہ  صحابہ  اور تحریک جعفریہ  پاکستان بطور خصوصی  بیٹس  کے طور  پر  دے دی گئیں۔ ایک ہی  رپورٹر  کے لئے مشرق  اور  مغرب  کے نظریات  کی  مالک ان فرقہ وارانہ مذہبی جماعتتوں  کو کور کرنا آسان نہیں تھا۔ انتخابات  کی مہم کے دوران مجھے اے پی پی اسلام آباد  کی  طرف سے ایک دن  انجمن سپاہ  صحابہ کے سربراہ مولانا ضیا الرحمان فاروقی  کا انٹرویو کرنے کی ہدایت  آئی۔ اس کے لئے  مجیب الرحمان انقلابی جو کہ ان دنوں  سپاہ صحابہ  کے میڈیا  کوآرڈینیٹر تھے ، سے رابطہ کیا۔ اگلی صبح کا وقت طے ہوا۔ لٹن روڈ پر  واقع  سپاہ صحابہ  کے ہیڈ آفس پہنچا  تو  مجھے عمارت کی چھت پر لے جایا گیا۔جہاں ضیا الرحمان فاروقی موجود تھے۔ ان کے سامنے ہی میرے لیے کرسی لگا دی گئی۔ ان کی حفاظت  کے لئے دو کلاشنکوف بردار ان کے دائیں بائیں مستعد کھڑے تھے۔ میں نے ان سے ان کی جماعت کے انتخابی منشور اور دیگر معاملات پر سوالات کیے۔ اس دوران ضیا الرحمان فاروقی نے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ  اتنا پیسنہ کیوں آیا ہے۔۔۔میں کیا بتاتا کہ جب  سر کے اوپر  دو کلاشنکوف موجود ہوں تو کون سکون سے رہ سکتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم ٹاون موڑ پر کئی مرتبہ  تحریک جعفریہ پاکستان کے قائد علامہ ساجد نقوی کی پریس کانفرنس کور کرنے کا موقع ملا۔ ان دنوں میں اکثر اپنے سینیرز سے کہا کرتا تھا کہ اگر انتخابات کے دوران موت آئِی توان جماعتوں کے درمیان کراس فائر سے ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here