خارزار صحافت۔۔۔قسط سینتیس

0
229

بانوان و مردان، خبر نگاران ارشد

تحریر: محمد لقمان

اگلی صبح ترقیاتی صحافت کے تمام غیر ملکی شرکا کو ایران کی قومی خبررساں ایجنسی ارنا کے ہیڈ آفس لے جایا گیا۔ ارنا کا ہیڈ آفس ان دنوں تہران کے مرکزی چوک ولی العصر اسکوائر میں تھا۔ جو کہ کسی طور پر بھی لاہور کے لبرٹی چوک سے کم نہیں تھا۔ چوک کے عین وسط میں مسجد اقصی کا ماڈل نصب تھا۔ ہیڈ آفس پہنچنے پر ورکشاپ کے کوآرڈینٹر محمود جون نے سب کا استقبال کیا اور اگلے دو ہفتوں میں کیا ہونے والا تھا ۔ اس کے بارے میں بتایا ۔ تہران یونیورسٹی (دانشگاہ تہران) کے پروفیسر نعیم اور پروفیسر شرارے امیرعلی اورعلامہ طبا طبائی یونیورسٹی (دانشگاہ علامہ طبا طبائی) کے پروفیسر کاظم نے ورکشاپ کی غرض و غائت کے بارے میں تفصیلاً بات کی۔ ڈاکٹر نعیم کا تلفظ  ہر لحاظ سے امریکی اور برطانوی اساتذہ کی طرح تھا جبکہ ڈاکٹر کاظم کی انگریزی کو سمجھنا کسی طور پر آسان نہیں تھا۔ مثلاً جب وہ گلوبل کا لفظ بولتے تو تمام غیر ایرانی شرکا کے کان اسے کلوبال سنتے۔ پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب نے پیرس سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ اور فارسی اور فرنچ تلفظ ملنے سے ان کا لہجہ اس قسم کا ہوچکا تھا۔ ورکشاپ میں ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکا کے 19 ممالک سے تیس کے قریب صحافی شریک تھے۔ اس کے علاوہ ایرانی نیوز ایجنسی ارنا ، سرکاری اخبار اطلاعات اور نجی اخبارات کیہان انٹرنیشنل اور تہران ٹائمز کے صحافی بھی موجود تھے۔ ورکشاپ کا پہلا دن تو ایک دوسرے کو سمجھنے میں گذر گیا۔ ورکشاپ کے شرکا کو اپنی اپنی نیوز ایجنسی کی کم ازکم ایک ہفتے کی خبروں کا پرنٹ آوٹ یعنی کریڈ لانے کو کہا گیا تھا۔ میں اے پی پی کی کریڈ لے کر گیا تھا۔ آغا محمود جان کو ہم سب نے کریڈ جمع کروائی۔ مگر اگلے دو ہفتوں میں اس کریڈ کسی بھی شخص نے بات نہیں کی۔ ورکشاپ کے شرکا میں سے سب سے پہلے میری دوستی آزربائجان کی نیوز ایجنسی آزر تاس کے رپورٹر ناطق عبداللہ ایف سے ہوئی۔ وہ کم بولنے والا ایک ہنس مکھ انسان تھا۔ سنہری رنگ کے نوجوان کے پاس شاید ایک ہی شرٹ تھی۔ جس کا رنگ بھی سنہرا تھا۔ آزری روایات کے مطابق اس نے اپنے دو دانتوں پر سونے کے خول چڑھائے ہوئے تھے۔ انڈونیشیا کی نیوز ایجنسی انتارا کے رپورٹر آندی عبدالسلام اور ملائشیا کی نیوز ایجنسی برنامہ کے رپورٹر ازمن ذکریا سے بھی گپ شپ لگانے کا موقع ملتا رہا۔ افغانستان کی سرکاری نیوز ایجنسی باختر سے دو صحافی آئے تھے۔ جو ہمیشہ الگ تھلگ ہی رہتے۔ کیوبا سے آنے والے صحافی جن کو ہم لیو کے نام سے پکارتے تھے۔ ہر وقت کسی نہ کسی معاملے کی شکایت ہی کرتے رہتے۔ ورکشاپ کے شرکا میں سب سے زیادہ معمر قازقستان سے آئے ہوئے ایک ایڈیٹر تھے۔  جو ہر لیکچر کے نوٹس بہت تیزی سے لیتے۔ ہماری دانست میں وہ اس کانفرنس سے بہت فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مگر ایک دن ان سے ایک لیکچر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی معصومیت سے کہا کہ انگلیسی نہ بلدی۔۔۔گویا کھوتا ای کھوہ وچ پادتا۔ ان کو سرے سے ہی انگریزی زبان پر عبور نہیں تھا۔ اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق روسی زبان میں نوٹس لیتے رہتے تھے۔ سینیگال سے آنے والے عبدہ کو تو بس ایک دھن سوار رہی کہ کسی ایرانی خاتون سے کیسے متعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس خواہش کا اظہار اس نے ورکشاپ کے تعارفی سیشن میں ہی کر دیا تھا۔ اس چھ فٹ سے زائد قامت شخص کے لئے ورکشاپ میں دلچسپی پیدا کرنا منتظمین کے لئے ایک مشکل کام ہی رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here