بلیوں کا جزیرہ

0
637
Lawyers unrest


تحریر: محمد لقمان
بہت دن پہلے کی بات ہے کہ بحرالکاہل کے ایک جزیرے میں چوہوں کی بہتات ہوگئی۔۔جس کی وجہ سے وہاں پر آباد ملاح بہت تنگ ہوگئے۔ ملاحوں نے اس تشویشناک مسئلے کے حل کے لئے بڑی تعداد میں بلیاں پال لیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جن کی تعداد بڑھتی گئی۔ وقت گذرنے کے ساتھ جزیرے سے چوہوں کی نسل مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ اور مگر بلیوں کی نسل بڑھتی ہی گئی۔ حتی کہ بلیوں نے ملاحوں کے بچوں اور اہل خانہ پر حملے کرنے شروع کردیے۔ اور ان کی وجہ سے کئ اموات ہوگئیں۔ بلیوں کی کثرت سے ڈر کر ملاحوں نے اس جزیرے سے دوسرے جزیروں پر منتقل ہونا شروع کردیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جزیرے پر صرف بلیوں کا وجود ہی رہ گیا۔ اور جزیرہ بلیوں کا جزیرہ کہلانے لگا۔ پاکستان کے معاشرے میں 2007 میں فوجی آمر جنرل مشرف کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس موقع پر وکلا تحریک کا آغاز ہوا۔ لوگوں نے وکلا کو جمہوری نظام کے لئے مسیحا سمجھا۔ 2008 میں مشرف کا اقتدار ختم ہوا اور پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوگئی۔ 2009 میں مارچ کے مہینے میں ایک لانگ مارچ ہوا اور مشرف کے ہاتھوں فارغ کیے گئے تمام جج بحال ہوگئے۔ یوں پاکستانی قوم کو درپیش ایک مسئلے کا حل مل گیا تھا۔ مگر اس کے بعد وکلا طبقے کو دوبارہ ڈسپلن کرنا مشکل ہوگیا۔ ہر روز عدالتوں میں ہڑتالیں اور قلم چھوڑ تحریکیں۔ سائلین کے لئے اپنے مقدمات سے فارغ ہونا مشکل ہوگیا۔۔ ملک میں کوئی بھی واقع ہوجائے کم ازکم ایک روز کے لئے بار میں ہڑتال تو ہو ہی جاتی ہے۔ پاکستان بار کونسل نے متعدد بار معاملے کو درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر حالات درست نہیں ہوسکے۔ابھی حال ہی لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے ایک جج کے ساتھ بدتمیزی کے واقعے کے بعد تو معاملات مزید بگڑ گئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ کا ایک انتہائی برا واقعہ ہے۔ بلیوں کے جزیرے کی طرح پاکستان میں بھی ایسا جزیرہ بنتا جارہا ہے۔ جہاں معاشرے کے ایک خاص طبقے کے علاوہ باقی کسی کے لئے سکون سے رہنا آسان نہیں رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here