وبا کے موسم میں بہار

0
308

تحریر: محمد لقمان
پاکستان سمیت دنیا کے شمالی کرہ ارض میں اس وقت نہ گرمی ہے نہ سردی ۔ گویا کہ ایک گلابی موسم ہر طرف ہے ہے۔ مگر اس سال گلابی موسم یا بہار میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے ہر کسی کو گھر کے اندر بند ہونا پڑ رہا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے دو میٹر کے فاصلے پر رہنے پر مجبور ہے۔ بار بار ہاتھ دھونے اور سینٹی ٹائزر کے استعمال کے خبط کا شکار ہوگیا ہے۔ تھانیٹو فوبیا یا موت کا خوف ہر کسی کے دل میں جا گزیں ہے۔ دنیا کے ایک سو نوے سے زائد ممالک میں کہیں حکومتوں نے لاک ڈاون کرکے عوام کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کردیا ہے تو کہیں لوگوں نے وائرس سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو تنہا کر لیا ہے۔ موسم بہار سے جو رومانویت منسلک تھی۔ لگتا ہے ہوا میں تحلیل ہو کر کہیں دور چلی گئی ہے۔۔ گھروں کی کیاریوں اور باغوں میں گلاب اور دیگر پھول کھل گئے ہیں۔ مگر انسانوں کے دل کا موسم جان کے خطرے کی وجہ سے بہار کا مزہ لینے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ دنیا کے بہت سارے مذاہب اور ثقافتوں کے نئے سال کا آغاز ہی بہار سے ہوتا ہے۔ ان میں سب سے اہم جشن نوروز ہے جو کہ ایران کے علاوہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے کئی علاقوں میں بڑی شان وشوکت سے منایا جاتا ہے۔ اس برس بیس مارچ کو ایسا نہیں ہوا۔ زیادہ تر لوگ گھروں کے اندر رہ کر ہی سین کے حرف سے شروع ہونے والی سات اشیا کو سجا کر نئے سال کو خوش آمدید کہتے رہے۔ بکرمی سال کا آغاز بھی یکم چیت سے ہوچکا ہے۔ مگر بھارت سمیت کہیں بھی اس بار زیادہ جوش وخروش دکھائی نہیں دیا۔ ابھی وسط اپریل سے اہل پنجاب خصوصاً سکھ براداری کا دیسی سال شروع ہوگا۔ مگر اس بار بیساکھی میں وہ بات نہیں نظر آنے والی جو ماضی میں اس تہوار کا خاصہ رہی ہے۔ گویا کہ ایک میٹر کے اربویں حصے کے برابر جرثومے نے دنیا میں زندگی کو معطل کردیا ہے۔ موسم بہار میں کورونا کی بیماری کا پھیلا و لاطینی امریکہ کے مشہور مصنف گیبریل گارشیا مارکیز کے شہرہ آفاق ناول وبا کے موسم کی محبت کی یاد دلاتا ہے۔ جو کہ اٹھارہ سو اسی سے انیس سو تیس کے دوران بولیویا اور میکسیکو میں ہیضے کی وبا کے دوران ایک خاتون فرمینا ڈازا اور اس کے دو چاہنے والوں فلورینتینو اریزا اور ڈاکٹر جووینل اربینو کے درمیان تثلیث کے بارے میں ہے۔ اس دور میں بھی سماج میں وبا کی وجہ سے ایک عجب گھٹن اور غیر یقینی نظر آتی تھی۔ تمام تر ساءئنسی اور طبی ترقی کے باوجود بھی تقریباً ایک صدی کے بعد وبائیں انسانی زندگی پر اسی طرح اثر انداز ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر میں اولمپکس سمیت تمام کھیلوں کے مقابلے ملتوی یا منسوخ کردیے گئے ہیں۔ کاسینو اور مے خانے بند ہیں تو عبادت گاہوں میں بھی جانے کو منع کردیا گیا ہے۔ گویا کہ اس موسم بہار کا مزہ لینے کے لئے کسی بھی دل میں قرار نہیں۔بہار کی تازہ ہوا نہ تو دل کا ملال دور کرتی ہے اور نہ ہی کسی باغ کی طرف لے جاتی ہے۔ اب تو صرف ایک ہی نعرہ ہے کہ گھر کے اندر رہو اور جان بچاو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here