مہمند ڈیم۔۔۔خواب بنے گا حقیقت

0
852

تحریر: محمد لقمان
لاہور سے پشاور۔۔ایک پر لطف سفر
پانچ فروری کو ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز واپڈا عابد رانا کا فون آیا کہ وہ میڈیا کو لے کر مہمند ڈیم جا رہے ہیں۔ میں نے فوراً ہاں کردی۔ میری بڑی دیر کی خواہش تھی کہ کسی طور سابقہ علاقہ غیر میں واقع منڈا ڈیم،(اب مہمند ڈیم) کو دیکھنے کا موقع ملے۔ یہ وہی مہمند ڈیم ہے جس کے لئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے چندہ اکٹھا کیا تھا۔ زمینی حقائق کو جاننے کی خواہش پوری ہونے جارہی تھی۔ سب سے مزے کی بات یہ تھی کہ واپڈا صحافیوں کی بارات نہیں لے کر جارہا تھا۔ چند ٹی وی چینلز اور دو تین اخبارات کو دعوت دی گئی تھی۔تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی بہت بڑی بھیڑ میں لوگ گئے تو کوریج کے مسائل ہی پیدا ہوئے۔ دفتر والوں نے میرے ساتھ کہنہ مشق کیمرہ مین ندیم پوپی کو بھیجنے کی اجازت دے دی تھی۔ بارہ فروری کی صبح کو میں گھر سے واپڈ ا ہاوس پہنچا تو ندیم پوپی پہلے ہی سما کے دفتر سے وہاں پہنچ چکے تھے۔ سفر کے لئے واپڈا نے دو کوچز کا انتظام کر رکھا تھا۔ لاہور سے دس بجے کے قریب روانہ ہوئے۔ جب پوہ کی سردی ختم ہو رہی ہو اور پھاگن آنے والا ہو تو موسم خوب بخود رنگین ہو جاتا ہے۔ لاہور میں تو مطلع صاف تھا مگر جونہی کلر کہار سے آگے گئے تو یکدم موسم ابر آلود ہوگیا اور ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی۔ اور یہ سلسلہ پشاور تک جاری رہا۔ شدید سردی کے اختتام کا اندازہ سرسوں کے کھیتوں سے بھی ہو رہا تھا۔ راولپنڈی سے پہلے ہی سڑک کے دونوں طرف سرسوں کے پیلے پھول بہار کی آمد کا اعلان کر رہے تھے۔ چکری کے بعد اسلام آباد۔ پشاور موٹروے ایم ون پر داخل ہوئے تو پنجاب کے آخری ضلع اٹک میں بھی سرسوں کی فصل اپنے پورے عروج پر تھی۔ ایم ون موٹر وے کی کل لمبائی ایک سو پچپن کلومیٹر ہے۔۔جس میں سے سڑسٹھ کلومیٹر لمبی سڑک پنجاب کے اضلاع راولپنڈی اور اٹک سے گذرتی ہے جبکہ خیبر پختون خوا میں اٹھاسی کلومیٹر لمبائی ہے۔ چودہ انٹرچینج اس کو پنجاب اور خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع اور شہروں سے منسلک کرتے ہیں۔ بھیرہ اور چکری میں قیام و طعام کی وجہ سے سفر تھوڑا سا طویل ہو گیا تھا۔ سورج غروب ہونے کے بعد پشاور پہنچے۔ ریڈ زون میں جگہ جگہ چیک پوسٹس ہیں۔ یہ ریڈ زون ہی ہے جو کہ پشاور کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ ہے۔یہاں خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی، ایوان وزیر اعلی اور دیگر اہم دفاتر ہیں۔ قلعہ بالا حصار کو بھی دور سے دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن جس چیز کو دیکھنے کا انتہائی شوق تھا وہ کئی سال سے جاری پشاور میٹرو یعنی بی آر ٹی منصوبہ تھا۔ پشاور میں داخل ہونے کے بعد کئی میل تک سڑک بی آر ٹی ٹریک کے ساتھ ساتھ جاتی ہے۔ ہوٹل شیلٹن ریزیڈو ر میں ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہر کمرے میں دو افراد کے لئے انتظام تھا۔ میرے ساتھ انگریزی اخبار روزنامہ نیوز سے تعلق رکھنے والے میرے دیرینہ دوست منور حسن تھے۔ کئی سال کے میں اور منور حسن اکٹھے سفر کر رہے تھے۔ اگلی صبح آٹھ بجے ہوٹل کی لابی اکٹھا ہونے کو کہا گیا تھا۔ اس لیے رات گیارہ بجے ہی سونے کی ٹھان لی۔ چونکہ پورا دن سفر میں گذرا تھا۔ اس لیے بڑے مزے کی نیند آئی۔ صبح سویرے اٹھا۔کمرے کی کھڑکی سے پشاور کو دیکھا تو ماضی میں دہشت گردی کا شکار رہنے والے شہر کی صبح بڑی دلفریب تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here