سفر جنوب کے

0
159

زیریں سندھ کا سفر، کراچی بنا پہلا پڑاو

تحریر: محمد لقمان

ستمبر کے آخری ہفتے میں زرعی صحافیوں کی تنظیم آجا کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ چاول کی ہائبرڈ قسم کی زیریں سندھ میں کاشت کے کامیاب تجربے کو دیکھنے کے لئے ضلع بدین میں تین روز کے لئے جانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے تمام سفری اور رہائشی سہولیات میسر ہیں۔ میں نے پہلے پیشہ ورانہ اور گھریلو مصروفیات کی بنا انکار کیا مگر میزبانوں کی طرف سے مسلسل اصرار کی وجہ سے میں صحافیوں کے چودہ رکنی وفد کا حصہ بن گیا۔ یہ میرا کرونا کی وبا کے بعد ملک کے کسی بھی حصے کا پہلا فضائی سفر تھا۔ بائیس مئی کو لاہور سے کراچی جانے والی پرواز کے حادثے کی یادیں ابھی تازہ تھیں۔ اس لیے بھی ہوائی سفر سے ایک ڈر سا لگ رہا تھا۔ مگر بعد میں دل بڑا کیا اور چھ اکتوبر کی صبح پی آئی اے کی پرواز تین سو تین کے ذریعے کراچی روانہ ہوگیا۔ دوران پرواز جب بھی جہاز سے کسی قسم کی آواز آتی تو دل جیسے دہل سا جاتا۔ کراچی پہنچے تو اس بار انتظام ایرپورٹ کے بالکل قریب ہوٹل رمادہ پلازہ میں کیا گیا تھا۔ یہ ہوٹل لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔ تمام کمرے گراونڈ فلور پر ہیں۔ کانفرنس ہال اور دیگر سہولتیں بالائی منزل پر ہیں۔ مجھے اس بار پی ٹی وی کے رپورٹر اور اپنے دیرینہ دوست صادق بلوچ کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا تھا۔ میں اور صادق جب کمرے میں پہنچے تو اس میں موجود کم سہولتوں کمی وجہ سے مایوسی ہوئی۔ واش روم میں پانی بھی نہیں تھا۔ بار بار روم سروس کو اطلا ع دیکر کمرے کو اپنے رہنے کے قابل بنایا۔ شام کو شہر کی سیر کا پروگرام بنایا تو طے ہوا کہ پہلے سمندر کنارے اور بعد میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جائیں گے۔ مگر پنجابی کہاوت کے مطابق مختلف آرا کے حامل لوگوں کو اکٹھا رکھنا اور پانچ کلو مینڈکوں کو تولنا برابر کے مشکل کام ہیں۔ بہرحال بڑی مشکل سے آدھے لوگ سو ا پانچ بجے کے قریب اپنے کمروں سے باہر نکلے۔ جب تک رش والی سڑکوں سے ہوتے ہوئے سمند ر کنارے کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اب وہ مقامات عام عوام کے لئے بند ہو چکے اور اب صرف عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جایا جا سکتا ہے۔ میں انیس سو اٹھاسی سے کراچی جاتا رہا ہوں۔ مگر پہلی مرتبہ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جانے کا موقع مل رہا تھا۔ مزار کے احاطے میں داخل ہونے لگے تو سیکیورٹی گارڈز نے کہا کہ سب لوگ ماسک پہن کر ہی آگے آسکتے ہیں۔ چند لوگوں کے پاس فیس ماسک نہیں تھے تو انہیں مہنگے داموں خریدنے پڑے۔ اندر داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ اکثر زائرین نے ماسک نہیں پہنے تھے اور کوئی ان کو ماسک پہننے کے لئے پابند بھی نہیں کررہا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر مزار کے اندرونی حصے میں موجود عبداللہ شاہ غازی کی قبر کے باہر پہنچے تو وہاں کم وبیس تیس گلے یا منی باکس نصب تھے۔ گویا کہ سندھ محکمہ اوقاف کے لئے ہر روز لاکھوں روپے کے نذرانے مل جاتے ہیں۔ مگر مزار کی آرائش و تزین پر اس سے بہت کم رقم خرچ ہوتی نظر آئی۔ مزار پر دعا مانگی اور احاطے سے باہر نکل آئے۔ اب دن کی آخری مصروفیت یعنی ڈنر کو بھی انجام دینا تھا۔ یہ طے ہوا کہ ڈنر کے لئے دو دریا کے کسی ریسٹورینٹ میں جایا جائے۔ سمندر کنارے دو دریا کا علاقہ اپنے کھابوں کے لئے مشہور ہے۔ ایک زمانے میں یہاں صرف کولاچی ریسٹورینٹ ہوتا تھا۔ مگر اب درجنوں ریسٹورینٹس بن چکے ہیں جہاں ہزار وں افراد خصوصاً کراچی سے باہر آنے والے سر شام ہی پہنچ جاتے ہیں۔ اور سمندر کے کنارے انواع و اقسام کے کھانے کھاتے ہیں۔ اس بار قرعہ فال کباب جیز کا نکلا تھا۔ پہلے سوچا کہ نچلی منزل پر سمندر کے عین کنارے پر کھانا کھایا جائے۔ مگر کچھ دوست چھت پر ڈنر کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے اوپری منزل پر ہی جانا پڑا۔ سمندر سے آنے والی ہوا ایک نشہ سا پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ہر کسی کو دو دریا کے ریسٹورینٹس پر کھانے میں مزا آتا ہے۔ کھانے کے بعد ہوٹل آئے تو بتایا گیا کہ ہر کوئی صبح سات بجے ناشتے کے لئے کیفے میں آجائے کیونکہ آٹھ بجے بدین کے قصبے گولارچی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ (جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here