خار زار صحافت۔۔۔۔قسط چون

0
208

بے نظیر بھٹو اور میانوالی قریشیاں کے مخدوم
BY Muhammad Luqman
اکتوبر انیس سو چورانوے میں وزیر اعظم بینظیر بھٹو پنجاب کے سینیر وزیر مخدوم الطاف احمد کی دعوت پر ضلع رحیم یار خان کے قصبے میانوالی قریشیاں میں آئیں۔ تو ان کی کوریج کے لئے ملتان سے سرکاری میڈیا کی ٹیم کو جانا پڑا۔ پی آئی ڈی کی ٹرانسپورٹ میں صبح سویرے چار بجے ملتان سے روانہ ہوئے۔ چھ بجے کے قریب بہاولپور پہنچے تو ناشتہ تاریخی فرید گیٹ سے کیا۔ نان چنے کے ساتھ مکھن سے لبریز لسی کا اپنا ہی مزہ تھا۔ بہاولپور سے میانوالی قریشیاں تک ایک سو ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً چار گھنٹوں میں طے ہوا۔ وسیع رقبے پر پھیلے مخدوم ہاوس پہنچے تو ابھی بے نظیر بھٹو کی آمد میں کچھ تاخیر تھی۔ پی ٹی وی ، اے پی پی، ریڈیو اور پی آئی ڈی کے نمائندوں کو پنڈال میں لے جایا گیا۔ جہاں پہلے سے ہی علاقے کے سینکڑوں عمائدین، سیاستدان اور سرکاری افسران موجود تھے۔ بے نظیر بھٹو آئیں تو پنڈال نعروں سے گونج اٹھا۔ مخدوم الطاف احمد مرحوم اور مخدوم فیملی کے دیگر بڑوں نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ پہلے مخدوم الطاف نے سپاس نامہ پیش کیا اور بھٹو خاندان کی پاکستان کی ترقی کے لئے خدمات کو خوب گنوایا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو نے تقریر کی۔ اور علاقے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ بینظیر کا تلفظ ایسا تھا کہ جب بھی وہ مخدوم کا لفظ منہ سے ادا کرتیں تو ایسا لگتا کہ جیسے مختوم کہہ رہی ہوں۔ ایکڑوں پر محیط مخدوم ہاوس میں کھانے کا بہت اچھا انتظام کیا گیا تھا۔ لیکن اس موقع پر وڈا سائیں اور پیر سائیں کی اس سرزمین پر سماجی تفاوت بہت نظر آئی۔ سوائے بہت قریبی ملازمین کے ، باقی سب ملازمین اور ہاریوں کو بہت دور زمین پر بٹھایا گیا تھا۔ میں پہلی مرتبہ رحیم یار خان کے ضلع میں گیا تھا۔ اس ضلع کی پنجاب اور پاکستان کی سیاست میں کتنی اہمیت ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میاں والی قریشیاں اور جمالدین والی کے مخدوم پاکستان کی ہر حکومت کا کسی نہ کسی طور پر حصہ رہے ہیں۔ خصوصاً میانوالی قریشیاں کے مخدوم گھرانے سے تو تین وزرائے خزانہ رہے ہیں۔ مخدوم الطاف احمد انیس سو پچاسی میں نواز شریف کے وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد وزیر خزانہ مقرر ہوئے۔ مخدوم شہاب الدین بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ رہے۔ اور پنجاب کے موجودہ وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے۔ ایک اور چشم چراغ مخدوم خسرو بختیار اقتصادی امور کے وفاقی وزیر ہیں۔ اگر جمالدین والی کے مخدوم خاندان کی بات کی جائے تو مخدوم حسن محمود کا سابقہ مغربی پاکستان کی سیاست میں بہت زیادہ عمل دخل رہا ہے۔ ان کے بیٹے مخدوم احمد محمود ماضی قریب میں پنجاب کے گورنر رہے۔

بے نظیر کے دورہ رحیم یار خان کے ایک دو ہفتے بعد مجھے صدر پاکستان فاروق لغاری کے ساتھ رحیم یار خان کے ایک اور قصبے بھونگ جانا پڑا۔ جو کہ پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد کا حصہ ہے۔ اس دورے کے دوران بھونگ کی جامع مسجد میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس موقع پر رئیس شبیر احمد نے فاروق لغاری کو مسجد کے فن تعمیر پر بریفنگ دی۔ بھونگ مسجد کو انیس سو چھاسی میں اپنے مخصوص فن تعمیر کی وجہ سے آغا خان ایوارڈ سے بھی نواز ا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر انیس سو بتیس میں شروع ہوئی اور انیس سو بیاسی میں مکمل ہوئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here