خار زار صحافت۔۔۔۔قسط تریپن

0
198

 

ملتان سے ڈی جی خان۔۔۔سردار فاروق کی بیٹھک

تحریر: محمد لقمان

ابھی ملتان میں تعیناتی کا پہلا ہفتہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ ایک شام پی آئی ڈی سے رائے آصف کا فون آگیا کہ کل صدر فاروق احمد خان لغاری اپنے آبائی علاقے چوٹی زیریں کے دورے پر آ رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کو ان کی مصروفیات کی کوریج کے لئے صبح سویرے ڈی جی خان جانا ہوگا۔ اب ملتان میں جاری بور زندگی کا خاتمہ ہونے کا وقت آگیا تھا۔ اگلی صبح ایک وین میں پی آئی ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر رائے آصف ، انفرمیشن آفیسر سید عاصم حسنین اور ایک کیمرہ مین حسن پروانہ روڈ پر میرے دفتر کے سامنے پہنچ گئے۔ میں اوپری منزل پر واقع دفتر سے نیچے آیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ یوں میرا زندگی میں ڈی جی خان کے لئے پہلا سفر شروع ہوگیا۔ ملتان سے مظفر گڑھ ہوتے ہوئے ڈی جی خان جانے والی سڑک کی حالت کوئی قابل ستائش نہیں تھی۔ راستے میں چھوٹے چھوٹے قصبے آتے گئے۔ تقریبا ً سو کلومیٹر کی مسافت دو گھنٹے میں طے کرنے کے بعد دریائے سندھ پر غازی گھاٹ پر پل آگیا۔ پل کو پار کرنے کے آدھے گھنٹے بعد ہی ہم ڈیرہ غازی خان شہر میں داخل ہوچکے تھے۔ ڈیرہ غازی خان شہر کی بنیا د تو چار پانچ سو سال پہلے رکھی گئی تھی۔ مگر نیا ڈی جی خان انگریز دور میں انیس سو دس میں آباد کیا گیا۔ اس لیے یہاں عمومی طور پر سڑکیں اور آبادیاں کھلی کھلی ہیں۔ لاہور شہر کے برعکس آپ کو ڈی جی خان میں تنگ و تاریک گلیاں کم ہی نظر آئیں گی۔ خیر ڈی جی خان کے سرکٹ ہاوس پہنچے تو وہاں پولیس اور دیگر اداروں نے عمارت کا پورا گھیراو کیا ہوا تھا۔ آفیشل میڈیا کے ارکان کو سرکٹ ہاوس کے ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ ستمبر کا آخری ہفتہ تھا۔ ابھی بھی ڈی جی خان میں پنکھے کے نیچے بھی گرمی کا احسا س تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد صدر مملکت بھی پہنچ گئے۔ سرکٹ ہاوس کے مین ہال میں ان کی عمائدین علاقہ اور سرکاری حکام کے ساتھ میٹنگ تھی۔ وسطی پنجاب کے برعکس میٹنگ کے دوران شرکا فاروق لغاری سے اردو کی بجائے سرائکی زبان میں ہی گفتگو کرتے رہے۔ ہر کوئی صدر پاکستان کو سردار فاروق کہہ کر پکارتا اور ان سے اپنے علاقے کے کسی مسئلے کے بارے میں بتاتا یا اپنے بچے یا کسی عزیز کی نوکری کے لئے کہتا۔ فاروق لغاری میٹنگ میں موجود افسران کو اردو میں ہدایات دیتے۔ میٹنگ میں آئے بہت سارے افراد کی خواہش تھی کہ ان کے بچوں کی اوجی ڈی سی میں بھرتی ہو جائے۔ اجلاس ختم ہوا تو فاروق لغاری چوٹی زیریں کے لئے روانہ ہوگئے۔ ملتان میں اپنی تعیناتی کے دوران مجھے متعدد بار ڈی جی خان جانے کا موقع ملا۔ صدر پاکستان کا ہر بار یہی انداز ہوتا تھا۔ اس وقت تک چونکہ ڈی جی خان ایرپورٹ نہیں بنا تھا۔ اس لیے وہ زیادہ تر سڑک کے ذریعے ہی اپنے علاقے چوٹی زیریں جاتے۔ ڈی جی خان میں صدر لغاری کی کوریج کے لئے جانے کے دوران میری قائد اعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں اپنے سے دو سے تین سال سینیر ظفراللہ خان سے بھی ملاقات ہوتی رہی۔ جو ان دنوں ڈی جی خان کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (اے ڈی سی جی) تھے۔ پہلی ملاقات میں ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں قائداعظم یونیورسٹی میں ایم فل کی کلاسز میں داخلہ نہیں دیا گیا تھا۔ یہ وہی ظفراللہ خان ہیں۔ جو آج بیرسٹر ظفراللہ خان کہلاتے ہیں۔ بطور بیوروکریٹ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریب رہنے کے بعد آج کل بطور وکیل بھی ن لیگ کی اگلی صفوں میں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here