خار زار صحافت۔۔۔قسط چونسٹھ

0
201

اے پی پی فیصل آباد میں اکھاڑ پچھاڑ کیوں ہوئی

تحریر: محمد لقمان

یہ پہلا موقع تھا کہ اے پی پی کے کسی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے فیصل آباد کے دفتر کا دورہ کیا ۔ اس کی ایک ہی وجہ تھی چوہدری رشید احمد خود فیصل آباد کے ایک نواحی گاوں کے رہنے والے تھے۔ اور انہوں نے اپنے بہت سارے عزیز فیصل آباد کے دفتر میں بھرتی بھی کر لیے تھے۔ ساجد علیم کے ساتھ ان کے عناد کی وجہ یہ بھرتیاں تھیں۔ یکم جنوری انیس سو چھیانوے کو اے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا چار ج سنبھالتے ہی جب انہوں نے فیصل آباد کے دفتر میں بھرتیاں شروع کیں تو اس پر اسٹیشن مینجر ساجد علیم نے کئی مرتبہ اعتراض کیا۔ اس کا چوہدری رشید کو بہت رنج تھا۔ آخر مئی کے وسط میں ان کو موقع مل گیا ۔ جب وہ فیصل آباد کے دفتر میں آئے تو انہوں نے اسٹیشن مینجر کا پوچھا تو آفس بوائے خلیل احمد نے بتایا کہ کہیں باہر گئے ہیں۔ اس کو نہیں پتہ تھا کہ یہ اے پی پی کے نئے ای ڈی ہیں۔ اس پر انہوں نے خلیل کو کہا کہ وہ ساجد علیم کو بلائیں۔ جب ساجد علیم دفتر آئے تو انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں ہے کہ وہ زیادہ تر وقت دفتر میں نہیں بیٹھتے۔ جس پر ساجد علیم نے بتایا کہ وہ رپورٹر ہی کیا جو سارا دن دفتر میں گذار دے۔ چوہدری رشید اسلام آباد واپس آئے تو انہوں نے خلیل احمد کو جبری ریٹائر ڈ کردیا اور ساجد علیم کی ٹرانسفر لاہور کردی۔ چوہدری رشید احمد کا یہ ایک نیا روپ تھا۔ ان کے ایک بھانجے منیر احمد سعید گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں میرے کلاس فیلو رہے تھے۔ انیس سو نوے میں وہ میرے ساتھ ہی اے پی پی میں بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے دوران سعید اکثر اپنے ماموں چوہدری رشید احمد کی تعریف کرتے ۔ ایک مرتبہ بتایا کہ وہ کولمبو میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس اتاشی ہیں۔ غائبانہ تعارف سے میں بھی ان سے متاثر ہوا۔ کہ ایک متوسط گھرانے کا چشم و چراغ اتنی ترقی کرچکا تھا۔ بڑا رشک آتا کہ ایک گاوں سے تعلق رکھنے والا شخص کئی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکا ہے۔ مگر کسی انسان کی ایمانداری کا اندازہ تو اس وقت ہوتا ہے جب اس کے پاس اختیارات آجائیں۔ اے پی پی جیسے ادارے میں جس کی نہ تو کوئی طے شدہ سرکاری حیثیت ہو اور سروس رولز بھی سرے سے نہ ہوں۔ وہاں کسی بھی شخص کے دل میں اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا لالچ آجاتا ہے۔ یہی چوہدری رشید کے ساتھ ہوا۔ شاید یہ پہلی پوسٹنگ تھی کہ جس کے دوران ان کو اپنے خاندان کے درجنوں افراد کو ملازمت فراہم کرنے کا موقع ملا۔ چوہدری رشید کی اے پی پی میں پوسٹنگ سے پہلے آصف زرداری کے قریبی ساتھی کالم نگار اور پی ٹی وی پر مقابل ہے آئینہ پروگرام کرنے والے عبدالستار عرف اظہر سہیل کی بطور ڈائریکٹر جنرل اے پی پی تعیناتی ہوچکی تھی۔ ضلع شیخوپورہ کے قصبے نارنگ منڈی کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی نے بھی اے پی پی پر افراد کا بوجھ بڑھانے میں وہی کردار ادا کیا جو کہ چوہدری رشید نے کیا۔ گویا اے پی پی میں اپنے علاقے کے کتنے افراد کون پہلے بھرتی کرواتا ہے۔ ایک مقابلہ جاری تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here