خار زار صحافت۔۔۔قسط اکسٹھ

0
115

رائٹرز کی تربیتی ورکشاپ۔ اقتصادی صحافت کی بنیاد بن گئی
تحریر: محمد لقمان
فروری انیس سو پچانوے کی ایک صبح اسلام آباد سے فون آیا کہ رائٹرز فاونڈیشن کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ ہو رہی ہے۔ اس کے لئے مجھے اور میری ایک ساتھی رپورٹر اور بیچ میٹ وسیم فاطمہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ دو روز کے بعد اسلام آباد پہنچنے کا کہا گیا۔ اس زمانے میں پی آئی اے صحافیوں کو جے ڈی ففٹی سہولت کے تحت کرائے میں پچاس فی صد رعائت دیتی تھی۔ اے پی پی لاہور بیور و نے دو ریٹرن ٹکٹ خرید کر ہمیں دیے۔ اسلام آباد ایرپورٹ پر پہنچے تو اے پی پی ہیڈ کوارٹر سے ہمیں پک کرنے کے لئے گاڑی موجود تھی۔ اس بار انہوں نے سپر مارکیٹ میں درمیانے درجے کے ہوٹل شانزے میں ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ فرسٹ فلور پر واقع کمروں میں ہمیں ٹھہرایا گیا۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد اسلام آباد کے اس فائیو اسٹار ہوٹل پہنچے جہاں رائٹرز فاونڈیشن نے فنانشل جرنلزم پر پانچ روزہ تربینی ورکشاپ کان انتظام کیا ہوا تھا۔ جب تمام شرکا پہنچ گئے تو ماڈریٹرز نے اپنا تعارف کروایا۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے منی ڈیسک کے انچارج انگریز ڈیوڈ اور ان کے ہمراہ ڈچ نسل کے ہیری موجود تھے۔ لمبے قد کے ڈیوڈ کی عمر اس وقت بھی ستر سال کے لگ بھگ تھی۔ بڑے منکسر مزاج اور دھیمے لہجے میں بولنے والے انسان تھے۔ کسی با ت کو سمجھانے کے لئے اگر گھنٹوں بھی سر کھپانا پڑتا تو وہ اس کے لئے تیار رہتے۔ اس کے برعکس ہیر ی کا معاملہ کچھ اور تھا۔ درمیانے قد کے فربہ جسم کے مالک ہیری تھوڑے سے تیز مزاج کے تھے۔ ایک بار میں نے ایک سٹوری میں فرانسیسی زبان کا ایک لفظ لکھ دیا تو جواب میں انہوں نے ڈچ زبان کا ایک پورا فقرہ لکھ دیا۔ کہنے لگے کہ انگریزی لکھتے ہوئے صرف انگریزی ہی لکھیں۔ ورکشا پ کے شرکا میں ہمارے علاوہ زیادہ تر شرکا کا تعلق اسلام آباد کے مختلف انگریزی اخبارات اور اے پی پی سے تھا۔ ان شرکا میں دی نیوز کے رپورٹر انصار عباسی اور ڈان سے ناصر ملک بھی تھے۔ خاموش طبع انصار عباسی پوری ورکشاپ کے دوران بہت کم گویا ہوئے۔ ورکشاپ میں جو سب سے اہم بات تھی کہ سب شرکا کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع ملتا تھا۔ یہ کسی طور پر بھی کالج یا یونیورسٹی کے دور کے پروفیسر کا مونو لاگ نہیں تھا۔ تمام شرکا کو ہر روز چار گروپوں میں تقسیم کردیا جاتا۔ عالمی معیشت کے کسی مسئلے پر بات چیت شروع ہوجاتی اور ہر شخص کو بورڈ پر چسپاں سفید کاغذ پر کوئی نہ کوئی آئیڈیا دینا پڑتا۔ سب سے دلچسپ سمولیشن سیشن ہوتے تھے۔ جن میں ڈیوڈ یا ہیری کبھی ورلڈ بینک کے صدر بن جاتے تو کبھی آئی ایم ایف کے سربراہ۔ ایک بار تو اس وقت کی نوزائدہ تنظیم ڈبلیو ٹی او کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔ ورکشاپ کے شرکا ان کی پریس کانفرنس میں سوال پوچھتے اور وہ جواب دیتے۔ اگر کوئی اچھا سوال پوچھتا تو اس کی خوب تحسین ہوتی۔ غلط سوال پوچھنے پر تصیح تو کی جاتی مگر تضحیک نہیں ہوتی تھی۔ صبح نو بجے شروع ہونے والا سیشن دو بجے تک جاری رہتا۔ آدھے گھنٹے کے لنچ کے وقفے کے بعد دوبارہ اکٹھے ہوتے اور پانچ بجے دن کا اختتام ہوتا۔اس کے بعد ہم قریب ہی واقع اے پی پی ہیڈکوارٹر چلے جاتے۔ جہاں سے ہمیں واپس ہوٹل پہنچا دیا جاتا۔ اس دوران میں رائٹرز نیوز ایجنسی کی اسٹائل بک، معاشی اور مالی اصطلاحات پر مشتمل گلاسری کے علاوہ متعدد کتابیں بھی دی گئیں۔ ان تمام کتابوں کو گھر کی بار بار منتقلی کے دوران میں کھو چکا ہوں۔ ورکشاپ کے خاتمے پر سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تقریب ہوئی تو تمام شرکا نے ڈیوڈ اور ہنری کا شکریہ ادا کیا۔ جب میں لاہور واپس پہنچا تو بیورو چیف نے مجھ سے پوچھا کہ کیا سیکھا۔ تقریبا ً پچیس سال کے بعد بھی مجھے اپنا جواب یا د ہے۔ کہ میں نے اپنے چار سے پانچ سال کے صحافتی کیریر میں اتنا کام نہیں کیا جتنا ورکشاپ کے منتظمین نے پانچ دنوں میں کروا لیا۔ آج اگر میں اکنامک جرنلزم کے بارے اگر تھوڑا سا جو علم رکھتا ہوں۔ اس کی بنیاد رائٹرز فاونڈیشن کی ورکشاپ میں رکھی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here