خارزار صحافت۔۔۔۔۔قسط تیس

0
382

معین قریشی، پاکستان کا پہلا درآمدی وزیر اعظم

تحریر: محمد لقمان

18 جولائی 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے صدارت اور نواز شریف نے وزارت عظمی سے استعفی دیا تو چیرمین سینٹ وسیم سجاد قائم مقام صدر بن گئے مگر اب نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔ اس کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔  بالآخر غور و خوض کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانی معیشت دان معین الدین قریشی نگران وزیر اعظم مقرر کردیے گئے تھے۔ قصور میں پیدا ہونے والے معین قریشی کی تعیناتی عام پاکستانیوں کے لئے کسی اچنبے سے کم نہیں تھی۔ زیادہ تر لوگوں کی سوچ تھی کہ کیا پاکستان میں ایسا کوئی شخص نہیں تھا جو کہ نوے دن اقتدار میں رہ کر عام انتخابات کروا سکے۔ بہر حال معین قریشی کے ساتھ ان کی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا۔ اے پی پی کے رپورٹر کے طور پر جس وزیر سے ہمارا رابطہ رہنا تھا وہ وزیر اطلاعات نثار میمن تھے۔ میمن جو کہ پاکستان میں آئی بی ایم کمپیوٹرز کے کنٹری ھیڈ تھے، کی بطور وزیر اطلاعات تقرری بھی ایک غیر معمولی بات تھی۔ نرم خو نثار میمن کے ساتھ جب بھی ملاقات ہوئی۔ بڑے پیار اور محبت سے ملے۔ یہ خاصیت مجھے بعد میں بہت وزرائے اطلاعات میں نظر آئی۔ بات ہو رہی تھی معین قریشی کی۔ ان کا لاہور اور پاکستان سے کتنا تعلق رہا تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ لاہور میں آئے تو ان کو لاہور کے ایک قبرستان میں اپنی ماں کی قبر پر جانے کا خیال آیا۔ کئی دہائیوں کے بعد وہ ایوان وزیر اعظم کے افسران اور سرکاری میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ قبرستان میں گئے تو ان کو اپنی ماں کی قبر کا پتہ نہ چل سکا۔ بالآخر ایک سرکاری افسر نے اندازے سے ایک قبر کے وزیر اعظم کی ماں ہونے کے امکانات کی نشاندہی کی تو وہیں پر دعا مانگ کر معین قریشی قبرستان سے واپس آگئے۔ وہ پچاس کی دہائی میں امریکہ چلے گئے تھے۔ اس لیے ان کا پاکستان سے بہت کم رابطہ رہا۔ وہ کئی ملکوں کے معاشی مشیر اور انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن اور عالمی بینک سے منسلک رہے تھے۔ مگر پاکستانی معیشت سے ان کا بہت زیادہ لینا دینا نہیں تھا۔ اس لیے تین ماہ کے دوران ملکی معیشت کی بہتری کے لئے ان کے لئے کوئی کام انجام دینا ممکن نہیں تھا۔ ایک اچھی بات جو انہوں نے کی وہ انتخابات میں امیدواروں کو اپنے اثاثوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنا ضروری تھا۔ یہ وہ اقدام تھا جو کہ بعد کے انتخابات میں بھی ایک روایت بن گیا۔ معین قریشی کی وزارت عظمی کے بارے میں عام سیاستدانوں کی سوچ تھی کہ وہ انتخابات میں مسلم لیگ کی بجائے کسی اور جماعت کو کامیاب کروانے آئے تھے۔ یہ بات انتخابات کے نتائج سے کافی حد تک درست ثابت ہوئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here