خارزار صحافت۔۔۔۔۔قسط آٹھ

0
686

خبر اپنی اپنی

تحریر: محمد لقمان

تقریباً ڈیڑھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد زیر تربیت صحافیوں کی خبریں اے پی پی نے جاری کرنی شروع کردیں ۔ شروع میں سب مل کر ایک خبرفائل کرتے اور وہ جب نیوز روم میں ایڈیٹ ہو کر ٹیلی پرنٹر پر ٹیپ بننے کے لئے چلی جاتی تو ایک عجب سرشاری محسوس ہوتی۔  اگلے دن انگریزی اور اردو اخبارات میں اس کو چھپا دیکھتے تو ایک دوسرے کو بتاتے۔ ڈائریکٹر نیوز ایم آفتاب جب صبح ایڈیٹوریل انیلسس کے لئے اخبارات لے کر ہمارے ساتھ بیٹھتے تو اچھی تحریر پر شاباش ملتی اور غلطیوں پر ڈانٹ تو یقینی ہوتی۔ ایک خبر جو کہ ہمارے لیے خجالت کا باعث بنی وہ امریکی لابیسٹ ڈیوڈ موزز کے امریکن سینٹر میں ایک لیکچر پر مبنی تھی۔ ہم تین چار دوستوں نے مل کر خبر بنائی جو کہ فرنٹیر پوسٹ میں اگلے دن چھپ گئی۔ بیک پیج پر چھپنے پر ہم بڑے خوش تھے ۔ مگر امریکی سفارتخانے کی طرف سے اخبار میں چند دن بعد ایک وضاحت چھپ گئی کہ ڈیوڈ موزز نے مختلف پیرائے میں بات کی تھی۔ اس پر اے پی پی مینجمنٹ کی طرف سے تو کوئی بڑا رد عمل نہیں آیا مگر ہم سب کافی دن تک شرمندہ شرمندہ رہے۔ اگر آج کی صحافت خصوصاً ٹی وی کی صحافت کا جائزہ لیا جائے تو غلط خبر دینے والے کو کوئی پشیمانی نہیں ہوتی الٹا اس کا ادارہ اس کی خبر کا کریڈٹ لیتا ہے اور کئی مرتبہ تو اس کو کوئی نہ کوئی مالی فائدہ بھی دے دیا جاتا ہے۔ مگر دو تین دہائی پہلے ایسا نہیں تھا۔ میں نے انفرادی حیثیت میں پہلی خبر چار جنوری 1991 کو فائل کی جو کہ راولپنڈی کے فلیش مین ہوٹل میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس نعیم الدین کے اعزاز دی گئی تقریب کے بارے تھی۔ اس تقریب میں  24اکتوبر 1990 کے انتخابات کو شفاف طریقے سے کروانے پر جسٹس نعیم الدین کو سراہا گیا اور گلے میں ہار بھی پہنایا گیا۔ یہ خبر 5 جنوری کو کئی انگریزی اخبارات میں چھپی۔ پاکستان آبزور میں سنگل کالم چھپنے والی اس خبر کا تراشہ پچھلے سال تک میرے پاس محفوظ تھا۔ مگر تین ماہ پہلے گھر شفٹ کرنے کے دوران کہیں ادھر ادھر ہوگیا ہے۔ اب ہر کوئی اپنی خبر فائل کرنے کے بعد اگلے دن ضرور اخبارات میں اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ۔ جو کہ عموماً کسی نہ کسی انگریزی یا اردو اخبار میں مل ہی جاتی تھی۔ لیکن  ایک بار تو ذیشان حیدر نے ہمارے معصوم دوست کریم مدد کا ایک عجیب طریقے سے پریکٹیکل جوک کیا ۔ مولانا نے کریم مدد کو  بتایا کہ تیری خبر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز یعنی ایف ٹی میں چھپی ہے اور وہ اخبار ڈائریکٹر نیوز ایم آفتاب کے پاس ہے۔ معصوم طبیعت کا کریم مدد بھاگتا ہوا آفتاب صاحب کے کمرے میں داخل ہوا اور ان سے ایف ٹی مانگنے لگا۔ جب کریم مد نے اخبار مانگنے کی وجہ بتائی تو ڈائریکٹر نیوز تو جیسے بڑھک اٹھے۔  اس واقعہ  کے بعد کریم مدد کی ذیشان حیدر سے کئی روز تک کٹی رہی۔ قصہ مختصر تربیت کے دور کی یادیں ابھی بھی ہر ٹرینی کی زندگی کا اہم سرمایہ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here