خارزار صحافت۔۔۔۔قسط اکتالیس

0
487

اصفہان۔۔۔نصف جہان

تحریر: محمد لقمان

جب ارنا کے ہیڈ آفس  میں دو ہفتے کے دوران  ترقیاتی صحافت کے ہر پہلوپر لیکچرز ہوگئے اور  تہران اور گردونواح کی سیر کرتے کرتے اکتا گئے تو
کورس کے ایرانی میزبانوں نے وسطی ایران کے شہر اصفہان لے جانے کی نوید سنادی۔
اصفہان جانے کے لئے سہہ پہر کے قریب 
مہرآباد ایرپورٹ پہنچے۔ ایران ایر کے 
جہاز نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں سوا تین سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
ایرپورٹ سے سیدھےاصفہان  شہر  کے وسط میں واقع ہوٹل میں لے جایا گیا۔
کوآرڈینیٹرز  نے بتایا کہ دو گھنٹوں   میں
تاریخی شہر  کی سیرکو نکلیں گے۔ کمرے میں
پہنچتے ہی میں بیڈ پر ایسا ڈھیر ہوا کہ بھول گیا کہ  اصفہان کی سیر 
بھی کرنی ہے۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئِی تو ایرانی میزبانوں کو موجود پایا
۔ جنہوں نے مسکرا کر فارسی میں کچھ کہا تو میں نے جواباً من خوابم کہا۔جس  پر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ زبان کو غلط بولیں
گے تو ہرکوئی مزہ تو لے گا۔ ہوٹل کی لابی میں پہنچے تو ہر دل عزیز محمود جون موجود
تھے۔ کہنے لگے تو آپ کی وجہ سے لیٹ ہوئے ہیں۔ میں نے معذرت کی تو بہت خوش ہوئے۔
ورکشاپ کے تمام شرکا کو اصفہان کے بیچوں بیچ گذرنے والے دریا زائںدے رود  کے پل پر لے جایا گیا ۔ جہاں کھانے کا اتنظام
کیا گیا تھا۔ دریا کے پل پرقائم ریسٹوران میں ڈنر کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ نیچے
سے دریا کے مچلتی لہروں کی وجہ سے بہاو کی آوازِیں اور  ہر 
طرف  رنگ  برنگی روشنیاں۔ مختلف ممالک سے آنے والے
صحافیوں کے لئے یہ  نیٹ ورکنگ کا بھی ایک
موقع تھا۔ اصفہان کے دریائے زائندے رود 
پر  مختلف مقامات پر پل تعمیر کیے
گئے  ہیں۔ جن میں اکثر شام کو سیاحوں کے
لئے تفریحی جگہوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ پاکستان میں دریائے سوات اور  کنہار پر 
ایسے تفریحی سپاٹ توبنائے جاسکتے ہیں۔ دریائے زائندے رود پر ڈنر کے بعد
واپس ہوٹل آئے تو بتایا گیا کہ صبح سویرے اصفہان سے کچھ دور ایک اسٹیل مل پر جانا
ہے۔ اس لیے سب وقت  پر نیچے ہوٹل کی لابی
آجائیں۔ معتدل موسم کی وجہ سے رات کو بہت اچھی نیند آئِی۔ صبح ناشتے کے بعد لابی
میں آئے تو بسیں مبارکہ اسٹیل مل لے جانے کے لئے باہر تیار کھڑی تھیں۔ اب ہم نے دس
لاکھ سے زیادہ آبادی والے ایران کے تیسرے بڑے شہر سے گذر کر مضافاتی علاقوں میں
جانا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here