افغانستان ، بھارت ڈائريکٹ ہوگئے , کابل۔دہلي فضائي تجارتي راہداري قائم

0
939
Pakistan-Afghanistan Trade at Torkham

 

 

Pakistan-Afghanistan Trade at Torkham

بھارت اور افغانستان نے اب پاکستان کے راستے تجارت کرنے کي بجائے فضائي راستے سے تجارت شروع کردي ہے۔۔۔اس کا بنيادي مقصد پاکستان کے زميني راستے پر انحصار کم کرنا ہے۔ حال  ہي ميں افغان صدر اشرف غني نے کابل کے حامد کرزئي ايرپورٹ سے پچاس لاکھ ڈالرز ماليت کي 60 ٹن ہينگ اور ديگر جڑي بوٹيوں سے بھرے جہاز کو نئي دہلي بھيج کر نام نہاد فضائي تجارتي راہداري کا افتتاح کيا۔ خشکی میں گھرا افغانستان ہمیشہ سے ہی ٹرانزٹ تجارت کے لیے پاکستان کی کراچی بندرگاہ پر انحصار کرتا آیا ہے  تاہم دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات میں حالیہ کشیدگی  اور متعدد بار سرحدی بندش کي وجہ سے کابل نے نئي دہلي کے ساتھ بذريعہ ہوائي جہاز تجارت کا فيصلہ کيا ہے۔

دہلی اور کابل نے گزشتہ برس ستمبر میں آگرہ میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیا سمٹ میں اس ”ایریئل کوریڈور” کے قیام کا فیصلہ کیا تھا اور اب بالآخر اسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ افغان تاجر تسلیم کرتے ہیں کہ  زمینی راستے کے مقابلے میں فضائی راستے سے تجارت خاصی مہنگی پڑتی ہے ۔ افغان۔ بھارت تجارتي معاہدے کے مطابق  افغانستان کی برآمدات پر بیس سینٹ  فی کلو گرام اور بھارت سے درآمدات پر چالیس سینٹ فی کلوگرام کی لاگت آئے گی۔  افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت گزشتہ دو برسوں میں کافی کم ہوئی ہے  ایک محتاط اندازے  ک دونوں ممالک کی سالانہ تجارت قریب تین ارب ڈالر سے گھٹ کر پانچ سو ملین ڈالر تک رہ گئی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درميان ٹرانزٹ تجارت معاہدہ 1950 ميں ہوا تھا۔ جس کے تحت افغانستان بغير ڈيوٹي ادا کيے پاکستان کے راستے ايک طويل عرصے تک تجارت کرتا رہا ہے۔مگر 1970 کی دہائی میں سوویت قبضے اور  نائن الیون کے بعد کی صورت حال کی وجہ سے سفارتی اور سیاسی تعلقات میں کھٹاس آئی۔ جس کا اثر تجارت پر بری طرح پڑا۔ افغانستان میں موجود طالبان گروپوں کے پاکستان کے شہروں میں ماضی قریب میں دہشت گرد حملوں کے بعد بار بار سرحد بند ہوئی۔ پاکستان کے اس معاہدے پر دوسرے اعتراضات میں کراچی بندرگاہ کے راستے آنے والے سامان کی افغانستان کی بجائے پاکستان میں ہی اسمگلنگ شامل رہی ہے۔ جس کی ٹائر سازی سازی اور دیگر صنعتی شعبے بری طرح متاثر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان راہداری تجارت کے معاہدے کے سلسلے میں کئی سالوں سے اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اور اس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا ہے۔ اور اب فضائی راہداری کے نام پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دوری کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here