مہاتیر کے دیس میں۔۔۔۔۔قسط اکیس

0
302
Strait of Malacca, Malaysia

تحریر: محمد لقمان

آبنائے ملاکا: ملائشیا کی معاشی شہہ رگ

بحرھند اور بحر الکاہل کو ملانے والے آبنائے ملاکا کے بارے میں بچپن میں معاشرتی علوم اور جغرافیہ کی کتابوں میں پڑھنے کا موقع ملا تو تیس سال پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کرتے ہوئے اس کی معاشی اور جغرافیائی حیثیت کو تفصیلاً جانا۔  ان سب معلومات کی حیثیت کتابی ہی تھی۔ جب تک کسی جگہ کو نہ دیکھیں تو اصل حقائق کا پتہ نہیں چلتا۔ حال ہی میں ملائشیا گئے تو دارالحکومت کوالالمپور سے تقریباً 35 کلومیٹر دور کلانگ کی بندرگاہ جانے کا موقع بھی ملا۔ صدیوں پرانی بندرگاہ آبنائے ملاکا کے عین اوپر واقع ہے۔  کلانگ کی بندرگاہ سے سامنے کی طرف  دیکھیں تو آبنائے ملاکا کے پار آپ کو انڈونیشیا کا جزیرہ سماٹرا نظر آتا ہے۔ آبنائے ملاکا پر صرف کلانگ ہی نہیں ۔ بلکہ ملائشیا کی دیگر بندرگاہیں میدان اور پنانگ بھی واقع ہیں۔ تھائی لینڈ کا مشہور تفریحی مقام پھکٹ، سنگاپور اور انڈونیشا کی کئی بندرگاہیں بھی اسی آبی راہگذر کے کنارے موجود ہیں۔ کلانگ کی بندرگاہ کا انتظام تو ملائشین سرکار کی  کلانگ پورٹ اتھارٹی چلاتی ہے۔ مگر بندرگاہ پر آنے والے خشک اور تر سامان کے ٹرمینلز کی ذمہ داری مختلف کمپنیوں کے پاس ہے۔ جن میں ویسٹ پورٹس سب سے اہم کمپنی ہے۔ اس کمپنی نے گاڑیوں کی درآمد اور برآمد کو آسان بنانے کے لئے کار ٹرمینل بھی قائم کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویسٹ پورٹس اور نارتھ پورٹ کمپنیوں کی کوششوں سے کلانگ کی بندرگاہ دنیا کی 18 ویں مصروف ترین بندرگاہ کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ویسٹ پورٹس کے ہیڈ آفس کی سب سے اوپر والی منزل سے آبنائے ملاکا کو دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ نیلگوں آسمان کے نیچے وسیع سمندر، انسان کے ذہن میں ایک عجب سرشاری پیدا کرتا ہے۔  کوئی بحری جہاز بندرگاہ کی طرف آرہا ہے تو کوئی اگلی منزل کی طرف جارہا ہے۔ آنے والا جہاز پہلے ایک دھبے کی شکل میں نظر آتا ہے تو قریب آنے پر ایک جسیم جہاز کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پاکستان میں کراچی پورٹ اورپورٹ قاسم پر بھی جانے کا موقع ملا۔ مگر وہاں چونکہ جہازوں کی آمد و رفت زیادہ نہیں ہے ۔ اس لیے وہ بندرگاہیں اتنی متحرک اور مصروف نظر نہیں آتیں۔ ویسٹ پورٹس کے دفتر کے بالائی منزل پر سب سے پہلے انناس کا جوس پیش کیا گیا۔ بعد میں چاولوں کی تامل ڈش اور مچھلی پیش کی گئی۔ مزے کا کھانا تھا بلا لحاظ قومیت اور نسل ہر کسی نے خوب کھایا۔ کمپنی کے تامل النسل مینجر نے بتایا کہ آبنائے ملاکا سے ہر سال ایک لاکھ کے قریب بڑے اور چھوٹے جہاز گذرتے ہیں جن کے ذریعے تقریباً 25 فی صد عالمی تجارت ہوتی ہے۔ ملائشیا اور انڈونیشیا کے لئے تو یہ آبی راستہ  کسی معاشی شہہ رگ  سے کم نہیں کیوںکہ اسی کے راستے پام آئل اور دیگر برآمدات دنیا کے دیگر ممالک کو روانہ ہوتی ہیں۔ گویا کہ جنوبی کوریا سے بھارت تک ایشیائی ممالک کی تجارت کا زیادہ تر انحصار آبنائے ملاکا پر ہے

Strait of Malacca, Malaysia

۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here