مہاتير کے ديس ميں ۔۔۔۔۔قسط پانچ

0
355
sdr

تحرير: محمد لقمان

موناش يونيورسٹي۔۔۔ملائشيا کي ترقي ميں آسٹريليا کا کردار

ملائشين بائيو ٹيکنالوجي انفرميشن سينٹر(مابک) کي طرف سے کورس کے شرکا کو پير کي صبح سوا آٹھ بجے ہوٹل سن وے کليو کي لابي ميں جمع ہونے کے کہا گيا تھا۔  وقت مقررہ پر اپنے کمروں سے نکل کر جب ہم لابي ميں پہنچے تو وہاں دنيا بھر سے آئے ہوئے ممتاز ترين بائيو ٹيکنالوجسٹس اور سرکاري عہديدار موجود تھے۔ ہالينڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر پيٹ مير، ترکي کے ڈاکٹر سليم جيتنر, جاپان کے ڈاکٹر کوزو وتانابے ،آسٹريليا کے ڈاکٹر کريگ کارمک اور امریکی محکمہ زراعت  کے ڈاکٹر ڈیوڈ   کا ذکر نہ کيا جائے تو ناانصافي ہوگي۔ مابک  کي ڈائريکٹر ڈاکٹر ماہا لکشمي نے سب کا سواگت کيا اور بتايا کہ اگلے تين روز ميں کيا ہونے والا ہے۔ کورس ميں پاکستاني حکومت کي نمائندگي ماحولياتي تحفظ کے وفاقي ادارے پيپا کي ڈائريکٹر جنرل فرزانہ الطاف شاہ کر رہي تھيں۔ جب کہ عرفان اللہ تونیو بطور ماہر شریک تھے۔ اتنے سارے ماہرين بائيوٹيکناجي اور سينير حکومتي اہلکاروں کے درميان ہم صرف تين صحافي موجود تھے۔ جن کا بائيوٹيکنالوجي کے بارے ميں علم بہت محدود تھا۔ جس کا اندازہ ہمیں کورس کے دوران ہوتا رہا۔

آسٹريلوي موناش يونيورسٹي کے ملائشين کيمپس تک لے جانے کے لئے ملائشين سياحتي ترقي کے ادارے کي بس ہوٹل کے باہر موجود تھي۔ اس دس سے پندرہ منٹ کے سفر کے لئے مہيا کئے گئے ٹورسٹ گائڈ پون نے سب کا استقبال کيا۔ اور کوالالمپور کے مضافاتي علاقے سن اور موناش يونيورسٹي کے بارے ميں تفصيلي بات کي۔ کچھ دير کے بعد سن وے کے علاقے ميں بس ايک خوبصورت عمارت کے سامنے رکي۔ تو ہمارے استقبال کے لئے موناش يونيورسٹي اور مابک کے نمائندے موجود تھے۔ موناش يونيورسٹي ملائشيا کا قيام 1998 ميں عمل ميں آيا۔ موجودہ وزير اعظم مہاتير محمد کي کوششوں سے کسي بھي غير ملکي يونيورسٹي کا  یہ پہلا کيمپس ا تھا۔ آسٹريليا کي رياست وکٹوريہ سے تعلق رکھنے والي يونيورسٹي اب تک جنوبي افريقہ، اٹلي اور بھارت ميں کيمپس اور تحقيقاتي مراکز قائم کرچکي ہے۔ اس وقت موناش يونيورسٹي ميں 8000 سے زائد طلبہ و طالبات زير تعليم ہيں۔ ان ميں درجنوں کا تعلق پاکستان سے بھي ہے۔ جنرل مشرف کے دور حکومت ميں لاہور سميت پاکستان کے مختلف شہروں ميں جرمني ، آسٹريا اور ديگر کئي مغربي ممالک کي يونيورسٹيوں کے کيمپس قائم کرنے کا اعلان کيا گيا تھا۔ اس سلسلے ميں مفاہمت کي ياد داشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ مگر رات گئي ، بات گئي کے مصداق کسي بھی غير ملکي يونيورسٹورسٹي نے پاکستان ميں اب تک کوئي کيمپس قائم نہيں کيا ہے۔

rpt

موناش يونيورسٹي کے اندر ہي ملائشين بائيو ٹيکنالوجي انفرميشن سينٹر قائم کيا گيا ہے۔ ڈاکٹر ماہا لکشمي، ايک تامل النسل بائيوٹيکنالوجسٹ اس کي ايگزيکٹو ڈائريکٹر ہيں۔ سانولي سلوني ڈاکٹر ماہا ہر وقت اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتي ہيں۔ پاکستان کے کسي ادارے کے برعکس ان کي ٹيم ميں صرف  دو ارکان ۔۔  شاميرا شمس الدين اور فرح ناظری  ہیں ۔ یہ دونوں بہت متحرک خواتین ہیں ۔ سال 2000 سے يہ مرکز بہت ساري بين الاقوامي ورکشاپس اور سمپوزيا کا اہتمام کرچکا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان بائيوٹيکنالوجي انفرميشن سينٹر کے بارے ميں ملک کے اندر بہت کم آگہي ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here