سچ یہ بھی ہے۔۔۔بابری مسجد کی شہادت۔۔۔کچھ یادیں

0
900

تحرير: محمد لقمان
آج سے ٹھيک 25 سال پہلے جب پاکستان ٹيلي وژن پر لاہور سے 927 کلوميٹر دور بھارت کے شہر ايودھيا ميں تاريخي بابري مسجد کي شہادت کي خبر نشر ہوئي تو ہر کسي کا دل غمگين ہوگيا۔ وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر کے دور میں تعمیر ہونے والی مسجد کو زمین سے ملا دیا تھا۔ مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلم کش فسادات ہوئے جس میں کم ازکم تین ہزار افراد کو قتل کردیا گیا۔ پچیس سال گذرنے کے بعد بھی بابری مسجد کی تعمیر نو نہیں ہوسکی۔ ابھی بھی معاملہ بھارت کے سپریم کورٹ میں ہے۔ لاہور سمیت پاکستان بھر میں مسجد کے انہدام کی خبر سے غم و غصہ کی لہر آگئی۔ ہر طرف احتجاج شروع ہوگیا۔ احتجاج کرنے والوں میں کئی ايسے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ سولہويں صدي ميں مغل شہنشاہ ظہيرالدين بابر کے دور ميں تعمير ہونے والي اس مسجد کے بارے میں سنا تھا۔ 7 دسمبر کي صبح شائع ہونے والے اخبارات ميں جب بابري مسجد کی انتہا پسند ہندووں کے ہاتھوں انہدام کي تصويريں چھپيں تو عوام میں اشتعال کی شدت مزید بڑح گئی۔ لاہور شہر کے تمام بازار بند ہوگئے۔ مذہبي جماعتوں نے ہڑتال کي کال دے دي۔ راقم الحروف جو اس وقت ايسوسي ايٹڈ پريس آف پاکستان کے لاہور بيورو ميں بطور رپورٹر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ کو لاہور ميں ہونے والے ہنگاموں کو کور کرنے کا موقع ملا۔ لٹن روڈ اور ليک روڈ کے سنگم پر جين مندر کو اپنی آنکھوں کے سامنے زمين بوس ہوتے ديکھا۔ مندر کو گرانے کے لئے لاہور کارپوريشن کے بلڈوزر بھي استعمال کيے گئے۔ کئي جذباتي لوگ تو مندر پر چڑھتے ہوئے کلس کے قريب تک پہنچ گئے اور گر کر زخمي بھي ہوئے۔ نيلا گنبد کے مندر پر جب حملہ کيا گيا تو اس کي ساتھ والي عمارت بھي زد ميں آگئي ۔ مجھے ابھي تک ياد ہے کہ اس گھر سے ايک درمياني عمر کا شخص باہر نکلا اور کلمہ طيبہ پڑھ کر بتايا کہ ان پر حملہ نہ کريں وہ بھي مسلمان ہيں۔ مگر جذباتي نوجوانوں نے اس عمارت سمیت نيلا گنبد کي سائکل مارکيٹ کو بھي نہ بخشا اور آگ لگا دي۔ آگ کے شعلوں نے کروڑوں روپے مالیت کے بائسائکلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یوں سینکڑوں افراد کا روزگار آگ کی نذر ہوگیا۔ ميں اور ميرے اے پي پي کے ساتھي رپورٹر مسرت حسين جب انارکلي سے گذر رہے تھے تو مظاہرين نے روک ليا اور کہا کہ ہڑتال ہے موٹر سائکل آگے نہيں جانے ديں گے اور آگ لگا ديں گے۔ مسرت حسين بڑے جہاں ديدہ تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو پکارا ، کلمہ طيبہ پڑھا ۔ نعرے لگائے ، موٹر سائکل کو کک ماری اور یہ جا وہ جا ہوگئے۔ پیچھے وہ نوجوان نعرے لگاتے رہ گئے اور يوں ہماري جان خلاصي ہوئي۔ اسي دوران شملہ پہاڑي چوک ميں واقع اير انڈيا کے دفتر پر بھي حملہ ہوچکا تھا۔ عمارت کو آگ لگا دي گئي تھي۔ اس طرح لاہور اور دہلي کے دوران پروازوں کا سلسلہ بند ہوگيا جو کہ بہت دير بعد بحال ہوسکا۔ مگر پچيس سال گذرنے کے بعد بھي ايرانڈيا نے لاہور کے لئے پروازيں شروع نہيں کيں۔ لاہور کے علاوہ اندرون سندھ اور بلوچستان ميں بھي ہنگامے ہوئے۔ بابری مسجد پر احتجاج کرنا لاہوریوں کا حق تھا۔ مگر غصے کے عالم میں اپنی ہی جائداد کو آگ لگانا درست نہیں تھا۔ جین مندر چوک کو بابری چوک کا نام دے دیا گیا۔ مگر یہ نام چند روز ہی چلا ۔ اب دوبارہ یہ چوک جین مندر چوک ہی کہلاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here