خار زار صحافت۔۔۔قسط بیس

0
293

 

کرائم رپورٹنگ کا بھی مزہ چکھا

سال 1992 شروع ہوا تو بلدیات  اور دیگر چھوٹی چھوٹی بیٹس کے ساتھ  زراعت، وائلڈ لائف ، لائیو اسٹاک سمیت کئی نئی بیٹس مل چکی تھیں۔  تقریباً ہر ہفتے ڈیوس روڈ پر ایگریکلچر ہاوس جانے کا موقع ملتا۔ ایک مرتبہ تو ڈائریکٹر زرعی اطلاعات مظفر حسین کھرل سے ملاقات ہوئی مگر بعد میں نئے ڈائریکٹر نواز بھٹی سے تعارف ہوا تو وہ بعد میں دو دہائی کی دوستی میں تبدیل ہوگیا۔ اگر میں کہوں کہ زراعت کے بارے میں جو کچھ آج میرے پاس معلومات یا علم ہے۔ وہ صرف نواز بھٹی کی وجہ سے ہے۔  اسی دور میں ایک اور بھٹی سے ملاقات ہوئی۔۔۔وہ نزاکت حسین بھٹی تھے جو ان دنوں پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ تھے۔ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی واجد صاحب کے پاس اسی دور میں آنا جانا ہوا۔ اس دور میں کسی دفتر میں ہر ہفتے جائے بغیر بات نہیں بنتی تھی۔ چاہے مثبت خبر ہوتی یا منفی ۔ آپ کے پاس متاثرہ فریق کا موقف ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ ان بیٹس کے ساتھ ان دنوں کرائم کی بیٹ چند ماہ کے لئے مل گئی۔ اس کے لئے ہر روز ایس ایس پی آفس کے ساتھ ساتھ میو ہسپتال کے ساتھ موجود مردہ خانہ جانا ضروری تھا۔ پورے دن کی ایف آئی آرز تک رسائی صرف ایس ایس پی کے دفتر میں ہی ہوسکتی تھی۔ ان دنوں وہاں ملک محمد حسین نامی ریڈر ہوتے تھے۔ کوئی بھی رپورٹر ان کے پاس آتا تو وہ ایف آئی آرز کی پوری فائل اس کے حوالے کردیتے ۔ یوں خبر کے بارے میں معلومات مل جاتیں۔ قتل کا کیس ہوتا تو مردہ خانہ میں پوسٹ مارٹم کے لئے آئے مقتول کے لواحقین سے مزید حقائق کا پتہ چل جاتا ۔ ورنہ پولیس اسٹیشنز تو موجود ہی تھی۔ قتل کی ایک خبر نے تو مجھے چکرا کر رکھ دیا۔ ایک دن سٹی مارچری گیا تو وہاں ایک چالیس سالہ خاتون دھاڑیں مار کر رو رہی تھی۔ چلا رہی تھی کہ میرے خاوند کو کسی نے قتل کردیا۔ رات کے اندھیرے میں کوئی گھر میں آیا تو گلا گھونٹ کر چلا گیا۔ میں نے اس سے بات چیت کی اور دفتر میں آکر ایک خبر فائل کردی کہ لاہور شہر کے فلاں علاقے میں ایک پینتالیس سالہ مرد کو پراسرار طریقے سے قتل کردیا گیا۔ مگر اگلے دن دیگر اخباروں میں خبر چھپی تو پتہ چلا کہ اس خاتون نے اپنے جواں سال آشنا کے ساتھ مل کر ہلاک کردیا تھا۔ کرائم رپورٹنگ کے لئے چونکہ مزاج نہیں تھا۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب پی ٹی وی پر پنجابی خبریں پڑھنے والے ایک نیوز کاسٹر شراب نوشی میں گرفتار ہوئے تو بیورو چیف کی ہدایت کے باوجود ان کو جلد چھڑا نہ سکا۔ اس لیے تین چار ماہ کے بعد یہ بیٹ واپس مسرت حسین اور ناصر انجم کو چلی گئی۔ 1992 کے اوائل میں ہی ملک میں لاہور ۔ اسلام آباد موٹر وے سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ موٹروے کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب لاہور کے قریب فیض پور خورد کے مقام پر ہوئی۔  لیکن 1992 میں اگر کوئی خوشی کی سب سے بڑی خبر تھی تھی۔  تو وہ 25 مارچ کو انگلینڈ میں ہونے والےعالمی کرکٹ کپ میں پاکستان کی جیت تھی۔ ن لیگ اور پی پی پی کی رسہ کشی کی وجہ سے پریشان قوم کو بڑے عرصے کے بعد خوش دیکھا۔ لیکن اس ورلڈ کپ کے دوران میڈیا کا رویہ بہت معقول تھا۔ اس کی وجہ محدود تعداد میں اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں صرف سرکاری ٹیلی ویژن  پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کا ہونا تھا۔ گویا کہ کم جاننا بھی ایک نعمت ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here