خارزار صحافت ۔۔۔۔ قسط اول

0
426

صحافت میں پہلا قدم

تحریر: محمد لقمان

16 نومبر 1990 کی صبح جب میں فیصل آباد سے ٹرین کے ذریعے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پہنچا تو اے پی پی ھیڈ کوارٹر سے آئی ہوئی ہائی روف وین میری منتظر تھی ۔ ادھیڑ عمر پشتون ڈرائیور غازی خان نے مجھے سلام کیا اور پوچھا کہ فیصل آباد سے کوئی اور  ٹرینی تو نہیں آیا۔ میں نے جب انکار میں سر ہلایا تو اس نے میر ا سامان گاڑی میں رکھا اور مجھے لے کر اسلام آباد کے لئے چل پڑا۔ مری روڈ پر پہنچے تو مجھے قائد اعظم یونیورسٹی میں گذارے ہوئے دن یاد آئے جب میں ہر جمعرات کی شام اسلام آباد سے پنڈی آتا اور جمعے کا دن اپنے تایا کی فیملی کے ساتھ گذار کر ہفتے کی صبح اسلا م آباد واپس یونیورسٹی ہاسٹل میں چلا جاتا۔ گر چہ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے صرف تین سال کے قریب عرصہ ہوچکا تھا۔ مگر مری روڈ بدلا بدلا نظر آیا۔ فیض آباد چوک سے ہوتے ہوئے چک شہزاد میں ایک سرکاری ادارے کے ہاسٹل میں پہنچے جہاں پہلے سے ہی ملک کے مختلف حصوں سے آئے ایسوسی ایٹڈ آف پاکستان میں بھرتی کئے گئے درجن سے زائد ٹرینی جرنلسٹس موجود تھے۔ان میں کراچی سے آئے ہوئے شہاب ظفر ، اشفاق الرحمان قریشی، رفیعہ حیدر مدحت سیدہ ، معظم ہاشمی ، اندرون سندھ دادو سے شجاع الدین قریشی، کوئٹہ سے اکلوتے ٹی جے اعجاز شاہ، پشاور سے ذیشان حیدر ، لاہور کی آمنہ حسن، مانسہرہ سے سیما اقبال، سیالکوٹ سے علی عمران اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے منیر احمد سعید شامل تھے۔ ہنزہ سے آئے کریم مدد کا ذکر نہ کرنا انصافی ہوگی۔ جو کہ اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے تین ماہ کی ٹریننگ کے دوران سب سے زیادہ مقبول رہا۔کمرے الاٹ ہوئے تو مجھے علی عمران کے ساتھ کمرہ ملا جب کہ سب سے دلچسپ جوڑا ملک کے گرم علاقے دادو کے شجاع الدین قریشی اور ٹھنڈے علاقے پشاور کے ذیشان حیدر کا تھا۔ جن کے درمیان ہیٹر چلانے یا کمرے کی فرنچ ونڈو کھولنے یا بند کرنے پر ہی تکرار ہوتی رہتی تھی۔ کہرے بدن کے شجاع کو بہت زیادہ سردی لگتی تھی جب کہ ذیشان کی خواہش تھی کہ اسلام آباد میں موسم سرما کی یخ ہواوں سے کیسے لطف اندوز ہوا جائے۔ ایک اور دلچسپ شخصیت اشفاق الرحمان قریشی تھے۔ جن کا سامان جب کمرے میں شفٹ ہورہا تھا تو ان کے سامان میں سے کئی برتن باہر آن گرے۔ پوچھا کہ ان برتنوں کا کیا کریں گے۔ تو جواب ملا کہ دیکھنا ہاتھوں کے کیسے کیسے کرتب دکھاوں گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ تین ماہ کی ٹریننگ کے دوران کبھی بھی ان کے ہاتھ کا پکا کھانا نصیب نہیں ہوا۔ پتہ نہیں کون ان کی امور خانہ داری کی مہارتوں سے مستفید ہوا ہو۔ کیونکہ ان کے روم میٹ شہاب ظفر نے بھی کبھی اس کا ذکر نہیں کیا۔ ابھی کمروں میں پہنچے تھے کہ اے پی پی ہیڈکوارٹر سے آئے سیف الاسلام عباسی اور ہدایت اللہ عباسی جن کو بعد میں ہم ھک عباسی پکارتے رہے، سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق اے پی پی کے ایچ آر اور فائنانس کے شعبوں سے تعلق تھا۔ انہوں نے اے پی پی کے قوائد وضوابط سے آگاہ کیا۔ ہدایت اللہ عباسی مجھ سے ملے تو کہنے لگے کیا آپ کراچی سے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ فیصل آباد سے آیا ہوں تو کہنے لگے کہ آپ کا قد کاٹھ اور رنگ روغن تو اردو سپکینگ والا ہے۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ اگلے روز یعنی سترہ نومبر کو سپر مارکیٹ میں اے پی پی ہیڈکوارٹر میں ہر حال میں پہنچنا ہوگا۔ ہاسٹل کے پہلے روز کا کھانا تو اے پی پی نے خود فراہم کردیا۔ اور ساتھ ہی بتا دیا کہ اگلے تین ماہ کھانا خود ہی ادارے کی طرف سے دیے گئے ماہانہ وظیفے پندرہ سو روپے سے ہی کھانا ہوگا۔ اس کے لئے ہاسٹل کے کچن کے لئے ایک باورچی بلا معاوضہ دے دیا گیا۔ سب نے اتفاق رائے سے مجھے میس کا سیکرٹری منتخب کرلیا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ گھاٹے کا سودا تھا۔ جب بھی آب پارہ یا کسی اور مارکیٹ سے ہفتے بعد خریداری کرتا تو چیزیں مزید مہنگی ملتیں۔ اس کے برعکس اشیا  کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کوئی بھی اپنا ہفتہ وار حصہ بڑھانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ یوں مجھے ہر ہفتے سینکڑوں روپے اپنی جیب سے بھرنے پڑتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here