خارزار صحافت۔۔۔۔۔قسط دوم

1
606

اے پی پی میں پہلا دن

تحریر: محمد لقمان

17 نومبر کی صبح  ہر کوئی جلد جاگ گیا۔ کک مشتاق نے ابھی ناشتہ تیار ہی کیا تھا کہ اطلاع آئی  کہ ہاسٹل کے باہر اے پی پی ہیڈ آفس سے ہائی روف وینز ٹرینی جرنلسٹس کو لینے کے لئے آچکی ہیں۔گویا سستی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ۔ناشتے کے بعد ایک وین میں لڑکے سوار ہوگئے تو دوسری میں لڑکیاں بیٹھ گئیں۔ اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں سے گذرنے کے بعد  سپر مارکیٹ کے قریب اس وقت کے پوش سیکٹر ایف سکس میں ایک عمارت کے سامنے گاڑیاں رک گئیں۔ ۔ اے پی پی کے دفتر کی عمارت میں داخل ہوئے تو وہاں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ٹی جیز بھی پہنچ چکے تھے۔ ان میں شفیق قریشی،  مسرور محسن گیلانی ، عظیم احمد خان ،جہانزیب اختر چوہان ،  وجیہ الاسلام عباسی اور سامیہ علی موجود تھے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی وسیم فاطمہ میڈیکل وجوہات کی وجہ سے ٹریننگ میں شامل نہیں ہوسکی تھیں۔ جب بیچ کےتمام ارکان نے ہیڈ آفس میں رپورٹ کردی تو سب کو ڈائریکٹر نیوز ایم آفتاب کے پاس لے جایا گیا۔ ان کی عمر اس وقت  بھی چھپن ستاون سال ہوگی۔ انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور فرداً فرداً سب سے سفر کا احوال پوچھا ۔ اس کے بعد سب ٹرینیز کو اے پی پی کے سربراہ یعنی ڈائریکٹر جنرل فاروق نثار کے بالائی منزل پر قائم دفتر میں لے جایا گیا۔ پنجاب کے شہر ساھیوال سے تعلق رکھنے والے فاروق نثار کے خاندان کے اکثر افراد کا تعلق قانون کے شعبے سے رہا ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی شیخ اعجاز نثار لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پنجاب کے نگران وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد شیخ نثار احمد متحدہ ہندوستان اور بعد میں پاکستان کے ایک ممتاز وکیل تھے۔ فاروق نثار صاحب نے ہم سب کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ کتنی مشکل سے دو ہزار سے زائد امیدواروں میں سے کئی مہینوں کی مشقت کے بعد ٹیسٹ اور انٹرویو کے ذریعے بائیس افراد کو چنا گیا تھا۔ کیسے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد  سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسرز سے  مدد لی گئی۔ خطاب کے دوران جب بھی جذباتی ہوئے تو انہوں نے پنجابی زبان کے الفاظ کا سہارا لیا۔ چائے پلانے کے بعد ڈی جی اے پی پی نے ہم سب کو نیک تمناوں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس کے بعد ہمیں ڈائریکٹر نیوز اے پی پی  سینٹرل ڈیسک اور رپورٹرز روم میں لے گئے ڈیسک پر اشرف مرزا صاحب اور زبیر احمد خان صاحب اور سب ایڈیٹرز سےتعارف کروایا گیا ۔ رپوٹرز روم میں آئے تو افضل خان قذافی ( جنہوں نے بعد میں الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کے طور پر شہرت پائی اور بہت سارے تنازعوں کا حصہ بھی رہے) ، زمان ملک ، اکرم ملک اور جاوید اختر جیسے سینئرز سے ملاقات ہوئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ٹریننگ کے دوران دیگر اداروں سے آنے والے سینیر صحافی اور ماہرین جہاں لیکچر دیں گے تو وہیں اے پی پی کے فیچر رائٹر چاچا محمد رفیق اور ڈیسک انچارج زبیر خان بھی خبر نگاری اور فیچر لکھنے کے بارے میں تربیت دیں گے۔ کراچی سے آئے جلیل احمد کو ٹرینینگ پروگرام کا سپروائزر مقرر کردیا گیا تھا۔ جو کہ بڑے مرنجان مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ بہاری النسل جلیل احمد سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی آفس میں آگئے تھے اور اب وہ کراچی بیورو میں ڈیسک انچارج کے طور پر کام کر رہے تھے۔ (جاری ہے(

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here