خارزار صحافت۔۔۔۔۔قسط  دس

0
330

اے پی پی ٹریننگ،  کچھ دلچسپ یادیں۔۔۔۔۔2

تحریر: محمد لقمان

سپر مارکیٹ میں اے پی پی کے ہیڈ آفس کے پاس ایک گھر میں ایک شخص نے بندر پال رکھا تھا۔ جو گلی میں سے گذرنے والے ہر آنے جانے والے پر کھوکھیا تا جس سے ایک عجب خوف سا محسوس ہوتا۔ مگر کچھ دن بعد اس میں  بڑی  تبدیلی نظر آئی ۔۔اب وہ بجائے منہ سے آوازیں نکالنے کے ہر کسی کو سلام کرتا تھا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے  ہمارے ساتھی زیر تربیت جرنلسٹ کریم مدد نے اسے ہاتھ کو ماتھے تک لے جانا سکھا دیا تھا۔ گویا کہ اے پی پی تو ہماری صحافتی تربیت کر رہی تھی۔ مگر اس دوران ایک بندر کی اخلاقیات کو بھی بہتر بنادیا تھا۔ اس بات کی سب سے پہلے نشاندہی عظیم احمد خان نے کی تھی ۔ جس کی بعد میں اس گھر کے پاس سے گذرنے والے ہر شخص نے تصدیق کی۔ اسی طرح ہمارے بیچ میں تین ارکان کے ناموں کے ساتھ قریشی تھا۔ کچھ لوگوں کو پریشانی تھی کہ راولپنڈی کے شفیق قریشی ، دادو کے شجاع الدین قریشی اور کراچی کے اشفاق الرحمان قریشی کی الگ الگ کیا پہنچان ہوسکتی ہے۔ تو ایک ستم ظریف نے تجویز کیا کہ چونکہ شجاع قریشی سب سے دبلے پتلے تھے، ان کو چکن قریشی، طویل قامت مگر صحت مند شفیق قریشی کو مٹن قریشی اور کراچی کے اشفاق الرحمان کو بیف قریشی پکارا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ یہ نیا نامنکلیچر ٹریننگ کے باقی دنوں میں استعمال ہوتا رہا۔ پورے بیچ میں کئی ارکان بشمول شہاب ظفر، ،مسرور محسن گیلانی، رافعہ حیدر اور شجاع الدین قریشی بہت سنجیدہ اور کم گو تھے۔ مگر کریم مدد اور اعجاز شاہ بسیار گو تھے۔ کئی مرتبہ بسیار گوئی ان کے لئے مسائل کا باعث بھی بنتی رہی۔ باقی لوگ ملے جلے رجحان کا شکار تھے۔ عظیم احمد خان جو کہ  پیدائشی طور پر تو اردو سپیکنگ تھے، مگر ان کے پوٹوہاری اور پنجابی کے لطیفے اور شعر سب کو پسند آتے ۔ شفیق الرحمان قریشی کی پیلے رنگ کی کار میں سفر کرنے کا موقع تقریباً ہر ٹی جے کو ملا ۔ اس کار میں سفر کے دوران کئی مرتبہ بڑے بڑے لطائف نے بھی جنم لیا۔ اگر سینیرز کی بات کی جائے تو زبیر احمد خان کا منہ پان رکھ کر بولنا اور اسی دوران اپنی بات میں فصاحت بڑھانے کے لئے ناقابل بیان اور اشاعت الفاظ  کو شامل کرنے سے محفل اکثر و بیشتر کشت زعفران بن جاتی۔ چاچا رفیق جو کہ اپنی بادہ خواری کے لئے مشہور تھے، آہستہ سے بات کرتے مگر فیصل آبادی ہونے کے ناطے اسی انداز سے کسی نہ کسی کو جگت لگا دیتے۔ گویا کہ یہ تربیت کی تربیت تھی اور شغل کا شغل بھی تھا۔ ایک دو مرتبہ دامن کوہ  پر جانے کا موقع ملا تو ہر کسی کی شخصیت کے نت نئے پہلو نظر آئے۔  رات کو جب اپنے ھاسٹل سے نکل کر باہر چہل قدمی کے لئے جاتے تو کئی مرتبہ بلیوں اور کتوں کے علاوہ سور بھی نظر آتے۔ ایک مرتبہ تو میں نے دور سے آتے ہوئے سور کو ایک بکری سمجھا تو فیصل آباد کے قریب کے گاوں سے تعلق رکھنے والے منیر احمد سعید نے بتایا کہ یہ سور ہے ۔ جب وہ ہمارے تھوڑے سے فاصلے سے وہ گذرا تو احساس ہوا کہ کتنا بڑا خطرہ ہمارے قریب موجود تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here