تربیلا کا لافانی سحر۔۔۔۔آخری قسط

0
733

تحریر: محمد لقمان

تربیلا جھیل کے کنارے ریسٹ ہاوس میں رات بتانے کا اپنا ہی مزا ہے۔ پانی کا ذخیرہ قریب ہونے کی وجہ سے موسم خود بخود ہی خوشگوار ہوجاتا ہے۔ رات بارہ بجے تک جھیل کنارے دوستوں کے ساتھ بیٹھے رہے۔۔ صبح سویرے ہی آنکھ کھل گئی۔ موبائل فون پر وقت دیکھا تو پتہ چلا کہ پونے چھ  بج چکے  ہیں۔ کمرے سے باہر صحن میں آیا تو ہر طرف سناٹا تھا۔ اس وقت لاہور سے آنے والے تمام ساتھی عادت کے مطابق اپنے کمروں میں محو خواب تھے۔ گویا کہ سحر خیزی کا مزہ لینے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ تھوڑا سا آگے جھیل کے کنارے آیا تو ایک دو ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین شوٹنگ کرتے نظر آئے۔ پتہ چلا کہ  طلوع آفتاب کا منظر عکس بند کر رہے ہیں۔ جو کہ سمندر ، جھیل یا دریا کے کنارے ہمیشہ مسحور کن ہوتا ہے۔ جھیل کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چلنے سے بھی موسم بہت خوشگوار تھا۔ آٹھ بجے کے قریب پیغام آیا کہ  دس بجے تک ہر حال میں  تربیلا  پاور ہاوس کے یونٹ نمبر چار تک پہنچنا ہے جو کہ تربیلا ایکسٹنینش فور منصوبہ بھی کہلاتا ہے۔ جلدی جلدی تیاری کی  اور ریسٹ ہاوس کے ساتھ منسلک ڈائننگ روم میں چلے گئے۔  پہاڑی مقامات پر ٹھنڈے موسم میں صبح سویرے  پراٹھے اور آملیٹ مل جائے تو ایک الگ مزہ آتا ہے۔ اپنے پرہیزی مزاج کی وجہ سے آملیٹ کے ساتھ  ڈبل روٹی کے دو سلائس پر ہی اکتفا کیا۔ اور گرم گرم چائے کے ساتھ ناشتے کا اختتام کیا۔ لیکن اپنے لاہوری مزاج کے دوستوں کو  ناشتے کے ساتھ خوب انصاف کرتے دیکھتا رہا۔ ناشتے کے بعد  ریسٹ ہاوس کے باہر آئے تو تربیلا فور تک لے جانے کے لئے گاڑیاں تیار تھیں۔ پاور ہاوس تک جانے کے لئے جھیل کے ساتھ ساتھ سڑک پر جانا پڑتا ہے۔ اسی دوران  الیکٹرانک میڈیا کے شوٹرز کو اپنی اپنی مرضی کی فوٹیج بنانے کا موقع بھی مل گیا۔ جب تک پاور ہاوس تک پہنچے تو جھیل اور اس کے ارد گرد پاور ہاوس کی مکمل عکس بندی ہو چکی تھی۔ تربیلا فور منصوبے  پر پہنچے تو چینی اور پاکستانی انجینیرز بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ان کے چہروں پر ایک تفاخر کا احساس تھا۔ آج انہوں  نے طویل محنت کے بعد اپنے اہداف حاص کرلیے تھے۔ ۔ پاکستان کو مزید 1410 میگاواٹ سستی بجلی دستیاب ہوچکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی چیرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین پہنچ گئے۔ انہوں نے  منصوبے کا غیر رسمی افتتاح کیا۔  میڈیا سے سامنا ہوا تو اپنی ٹیم کی بہت تعریف کی۔  لیکن وہ اس بات پر بھی شاکی دکھائی دیے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں کوئی بھی  پن بجلی کا منصوبہ شامل نہیں۔ تقریب کے اختتام پر واپڈا کے تعلقات عامہ شعبہ کے سربراہ عابد رانا نے میڈیا پر ایک مہربانی کی کہ جھیل کے کنارے مزید شوٹنگ اور گھومنے پھرنے کے لئے  غیر معینہ وقت دے دیا۔ تربیلا کا اتنا فسوں ہے کہ وہاں سے واپس آنے کو جی ہی نہیں چاہتا ۔ آخر چار بجے کے قریب تربیلا سے نکلے تو ایک عجب افسردگی تھی۔ ایک سوچ دامن گیر تھی کہ کیا تربیلا جھیل سے اگلی ملاقات کے لئے بھی ستائیس سال درکار ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here